رسائی کے لنکس

ان دونوں افغانوں کی عمریں 22 سال بتائی گئی ہیں جو پسند کی شادی کرنے کے لیے گزشتہ ماہ کابل سے فرار ہونے کے بعد ایبٹ آباد پہنچے تھے۔

افغانستان سے فرار ہوکرمحبت کی شادی کے لیے پاکستان پہنچنے والے ایک افغان جوڑے کو پشاور کے ایک جج نےاُس وقت جدا کرنے حکم صادر کردیا جب کمرہ عدالت میں پیش ہو کرایک معذور آدمی نے خاتون کا پہلا شوہر ہونے کا دعویٰ کردیا۔

گزشتہ ہفتے اسی جج نے مریم اور ہیواد کی شادی کو قانونی قرار دیتے ہوئے حکام کو ان کی حفاظت اور پشاور میں رہائش کا بندوبست کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

ان دونوں افغانوں کی عمریں 22 سال بتائی گئی ہیں جو پسند کی شادی کرنے کے لیے گزشتہ ماہ کابل سے فرار ہونے کے بعد ایبٹ آباد پہنچے تھے۔

خاتون کے بقول اُس کے والدین چاہتے تھے کہ وہ اپنی وفات پائی بہن کے شوہر سے شادی کرلے اور اگر اُسے افغانستان واپس بھیج دیا گیا تو کسی دوسرے سے مرضی کی شادی کرنے کی پاداش میں اُسے قتل کردیا جائے گا۔

پشاور کی عدالت میں منگل کو یہ افغان لڑکی اپنی ماں اور بھائی سمیت پیش ہوئی جبکہ پہیوں لگی کرسی پر 48 سالہ معذور شخص بھی ان کے ہمراہ تھا جو حقیقی شوہر ہونے کا دعویدار تھا۔
لڑکی کی رضیہ نامی 65 سالہ ماں نے صحافیوں کو بتایا کہ اُس کی بیٹی نے ساڑھے چھ سال قبل خود ہی یہ شادی کرنے کی حامی بھری تھی مگر دو سال بعد دل کا دورہ پڑنے کے باعث یہ شخص جزوی فالج کا شکار ہوگیا۔

اس نے مطالبہ کیا کہ عدالت لڑکی کو اُس کے خاندان کے حوالے کردے۔ تاہم جج دوست محمد خان نے یہ معاملہ ایک فیملی یا عائلی عدالت کو بھیج دیا ہے جبکہ مریم کو خواتین کے لیے قائم فلاحی مرکز میں پناہ دینے اور اس کے شوہر ہیواد کو تفتیش کے لیے بھیجنے کا حکم دیا۔

لڑکے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مریم کے خاندان والے نہ صرف افغانستان واپس جانے پر بلکہ پاکستان میں بھی اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG