رسائی کے لنکس

دہشت گردی سے پاکستان کی بقا کو خطرہ ہے: اسفند یار ولی


اسفند یار ولی (فائل فوٹو)

اسفند یار ولی (فائل فوٹو)

اے این پی کے قائد نے کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف تو مظاہرے کیے جاتے ہیں لیکن دوسرے ممالک سے پاکستان میں آ کر خودکش حملے کرنے والوں کے خلاف آواز بلند نہیں کی جاتی۔

پاکستان کے حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی نے منگل کو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کریں تاکہ اس لعنت کا ملک سے خاتمہ کیا جا سکے۔

پشاور میں اے این پی کی مرکزی قیادت کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا کہ ان کی جماعت سینیئر رہنما بشیر بلور کی خودکش حملے میں ہلاکت کے باوجود بھی دہشت گردی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے ملک کی بقا کو خطرہ ہے اس لیے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ کسی مصلحت کے بغیر متفقہ موقف اپنایا جائے۔

’’میں آج ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ آؤ بیٹھو… دہشت گردی کو دہشت گردی کہو اور پھر ایک لائحہ عمل طے کرو کہ کس طریقے سے ہم نے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف تو مظاہرے کیے جاتے ہیں لیکن دوسرے ممالک سے پاکستان میں آ کر خودکش حملے کرنے والوں کے خلاف آواز بلند نہیں کی جاتی۔

اسفند یار ولی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ان عناصر سے مذاکرات کے حق میں ہے جو پاکستان کی ریاست اور آئین کو تسلیم کرتے ہیں۔

’’لیکن جو بندہ مذاکرات پر نہیں آتا، پھر مجبوراً ہمیں یہ مطالبہ کرنا پڑے گا کہ ان کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔‘‘

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گرد حملے میں ایک سینیئر رہنماء کی ہلاکت کے بعد ان کی جماعت کسی طور آئندہ انتخابات کے التوا کا مطالبہ نہیں کرے گی بلکہ الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔

اے این پی کے رہنماء اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے سینیئر وزیر بشیر احمد بلور گزشتہ ہفتہ کے روز ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جس کی ناصرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید مذمت کی گئی۔
XS
SM
MD
LG