رسائی کے لنکس

پشاور میں انسداد پولیو مہم، شہر میں سکیورٹی سخت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور کے ڈپٹی کمشنز ظہیر الاسلام نے بتایا کہ پولیس کے 5700 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں خصوصی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

خیبرپختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور اور اس کے گرد ونواح میں ہفتہ کو پولیو سے بچاؤ کی ایک روزہ مہم کا انعقاد کیا گیا جس کا ہدف پانچ سال تک کی عمر کے سات لاکھ 54 ہزار بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانا تھا۔

حکام کے مطابق مہم کے دوران انسداد پولیو کی چار ہزار چار سو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جنہوں نے گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائے۔

انسداد پولیو کی ٹیموں پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کی وجہ سے ہفتہ کو ہونے والی مہم کے لیے بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیو کے خاتمے کے سرکاری پروگرام کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر رحیم خٹک نے وائس آف امریکہ کو حفاظتی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔

’’دیگر اضلاع میں یہ مہم تین دن کی ہوتی ہے لیکن پشاور کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پشاور میں یہ ایک روز کے لیے منعقد کی گئی اور سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور انسداد پولیو کی ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘

پشاور کے ڈپٹی کمشنز ظہیر الاسلام نے بتایا کہ پولیس کے 5700 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں خصوصی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

اس مہم کے دوران پشاور کی 97 یونین کونسلوں میں بچوں کو اس موذی وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

پاکستان میں رواں سال پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور اب تک ملک کے مختلف علاقوں سے 171 پولیو کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال یہ تعداد 93 تھی۔

انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس سے متاثرہ زیادہ کیسز قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ سے رپورٹ ہوئے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ابھی تک پولیو وائرس پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

پولیو کے خاتمے کے ہدف کو پورا کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسداد پولیو ٹیموں کی بچوں تک رسائی اور ان ٹیموں پر حالیہ برسوں میں ہونے والے ہلاکت خیز حملے بتائے جاتے ہیں۔

ماہرین صحت متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر انسداد پولیو کی مہم تواتر سے جاری نہ رکھی گئی تو پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔

رواں ہفتے ہی پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا تھا کہ انھوں نے دیگر متعلقہ اداروں اور حکومت کے ساتھ مل کر آئندہ نو سے بارہ ماہ کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کا ہدف ہوگا کہ 2015ء کے اواخر تک پولیو کا کوئی نیا کیس پاکستان میں رونما نہ ہو۔

XS
SM
MD
LG