رسائی کے لنکس

خودکش حملے میں ایف سی کے کمانڈنٹ ہلاک

  • شمیم شاہد

صوبہ خیبر پختون خواہ کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کے سہ پہر ایک خودکش بم دھماکے میں نیم فوجی سکیورٹی فورس فرنٹیئر کانسٹیبلری یا ”ایف سی“ کے کمانڈنٹ صفوت غیور ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ پشاور کے علاقے صدر میں واقع ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب اس وقت کیا گیا جب ایف سی کمانڈنٹ کی سرکاری گاڑی اشارہ بند ہونے کی وجہ سے ایک چوراہے پر کھڑی تھی۔ حملے میں کمانڈنٹ کا ڈرائیور اور ْان کا محافظ بھی ہلاک جب کہ قریب موجود متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے ایک سر اور دو ٹانگیں ملی ہیں جو بظاہر خودکش حملہ آور کی لگتی ہیں۔

مقامی میڈیا نے جائے وقوعہ کے قریب ایک عمارت میں نصب سکیورٹی کیمرہ کی مدد سے ریکارڈ کیے گئے مناظر نشر کیے جن میں خودکش حملہ آور واضح طور پر دکھائی دیا اور اْس نے اپنے ہدف کے بارے میں تسلی کرنے کے بعد جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

صفوت غیور پشاور پولیس کے سربراہ بھی رہ چکے تھے اور ان کے دور میں شدت پسندوں کے خلاف شمال مغربی علاقوں میں شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسندوں نے اپنی توجہ پشاور میں پر تشدد حملوں پر مرکوز کر دی تھی۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے صحافیوں سے گفتگو میں صفوت غیور کو ایک بے باک، نڈر اور بہادر افسر قرار دیا جنہوں نے دہشت گردی کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ اْن کا کہنا تھا کہ شدت پسند اب ایسے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف منظم انداز میں کام کرتے آئے ہیں۔

انھوں نے حکومت اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جہاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے حملے اس عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ان کے بقول ”ہمیں اپنے بچوں کی خاطر، اپنے وطن کی خاطر قربانی دینا ہو گی“۔

بشیر بلور کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ شدت پسندوں نے اپنا تازہ حملہ اْس وقت کیا ہے جب صوبہ خیبر پختون کو تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG