رسائی کے لنکس

پاکستان میں حکام نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مغربی اور جنوب مغربی حصوں میں جمعرات کو بم دھماکوں میں کم از کم دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔

پہلا بم دھماکا پشاور کے ہزار خوانی کے علاقے میں ایک مزار کے قریب ہوا اور مقامی پولیس نے بتایا کہ اس واقعہ میں دو بچے موقع پر ہی ہلاک اور 21 افراد زخمی ہو گئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

دوسرا بم دھماکا بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں غوث آباد کے علاقے میں ہوا جس میں دو افراد ہلاک اور 13 سے زائد زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کا ہدف سنی مسلمانوں کا ایک تبلیغی مرکز تھا اور بم دھماکا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔

پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے ان مہلک بم دھماکوں کے محرکات کے بارے میں پولیس حکام نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

پشاور اور اس کے مضافات میں بم حملے حالیہ برسوں میں معمول بن چکے ہیں تاہم کوئٹہ میں سنی مسلمانوں کے مقدس مقامات پر حالیہ ہفتوں میں تواتر سے ہونے والے حملے نیا رجحان ہیں جن کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی۔

بلوچستان کے دارالحکومت میں حالیہ مہینوں میں شعیہ ہزارہ برادری مسلسل ایسی پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنتی رہی ہے اور ان حملوں کا الزام سنی انتہا پسندوں پر لگایا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG