رسائی کے لنکس

خودکش حملہ آور کا ہدف پولیس کی ایک گاڑی تھی اور زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں جمعہ کو ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق جمعہ کی دوپہر یہ بم حملہ خیبر ایجنسی سے ملحقہ پشاور کے مضافاتی علاقے سربند میں ہوا جس کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔

پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار فیصل کامران نے جائے وقوع پر صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔ ’’ہمارے ایک سب انسپکٹر اور اس کے ساتھ تین بندے موجود تھے اس پر یہ خودکش حملہ ہوا۔ اس میں پولیس کی نفری بکتر بند گاڑی میں ہونے کی وجہ سے خیریت سے ہے چونکہ یہ پرہجوم جگہ ہے اس لیے کافی لوگ زخمی ہوئے۔‘‘


انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچوں کے علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

فیصل کامران کا کہنا تھا کہ یہاں سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کے حملوں کے پیش نظر پولیس عام گاڑیوں کی بجائے بکتربند گاڑی میں گشت کرتی ہے۔

سربند قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی سرحد پر واقع ہے جہاں اس سے قبل بھی شدت پسند سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔ فیصل کامران کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے سے شہر میں داخلے کے بے شمار راستے ہیں اس لیے پشاور میں داخل ہونے والے ہر شخص کی تلاشی لینا بہت مشکل ہے۔

یہ بم دھماکا ایک ایسے وقت ہوا ہے جب کالعدم تحریک طالبان کی شوریٰ سے بات چیت کے لیے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ شدت پسندوں نے ملک میں ایک ماہ کے لیے فائربندی کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG