رسائی کے لنکس

ڈاکٹروں کے اغوا پر احتجاج کا سلسلہ جاری

  • شمیم شاہد

اہم شخصیات کو ہلاک کرنے کے واقعات بھی صوبے کے حکام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اہم شخصیات کو ہلاک کرنے کے واقعات بھی صوبے کے حکام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خواہ میں ڈاکٹروں کے آئے روزاغوا اور ان کو درپیش دیگر خدشات کے خلاف شعبہ طب سے منسلک ماہرین کا احتجاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کے نجی شفاخانوں کی بندش بدستور برقرار ہے۔

احتجاج کا یہ سلسلہ گذشتہ ہفتے صوبائی دارالحکومت پشاور سے معروف ڈاکٹر انتخاب عالم کے تاوان کی غرض سے اغوا کے بعد شروع ہوا اور ڈاکٹروں کی مرکزی تنظیم نے اس میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے۔

پیر کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر انتخاب عالم کو جلد بازیاب نا کرایا گیا اور ڈاکٹر برادری کی دیگر شکایات پر سنجیدگی سے غور نا کیا گیا تو احتجاج کے اس سلسلے کا دائرہ کار صوبہ بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔

ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کے عہدیدار شاہ زوار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منگل کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مکمل ہڑتال کی جائے گی البتہ شعبہ حادثات میں طبی سہولیات کی فراہمی برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے دیگر بڑے سرکاری ہسپتالوں سمیت قریبی ضلع ایبٹ آباد کے مرکزی ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس میں دو گھنٹے کی علامتی ہڑتال بھی کی جائے گی۔

ڈاکٹروں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات میں ملوث عناصر کے بارے میں شاہ زوارکا کہنا تھا کہ پشاور جیسے شہر میں سخت سکیورٹی کے باوجود اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ سکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان کے بقول ڈاکٹروں کے خلاف وارداتوں کے پیچھے ایک منظم گروپ کا ہاتھ ہے ۔

پشاور پولیس کے سربراہ لیاقت علی خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے میں عسکریت پسندی پر خاصی حد تک قابو پانے کے بعد تمام تر توجہ اغوا کی وارداتوں کی روک تھام پر دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی نسبت ان واقعات میں خاصی کمی آئی ہے اور اس جرم میں ملوث بیشتر گروپوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر انتخاب عالم کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ تفتیش کا عمل جاری ہے اور پولیس بہت جلد ان کو بازیاب کرا لے گی۔

XS
SM
MD
LG