رسائی کے لنکس

صوبہ خیبر پختون خواہ میں ثقافتی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششیں

  • شمیم شاہد

صوبہ خیبر پختون خواہ میں ثقافتی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششیں

صوبہ خیبر پختون خواہ میں ثقافتی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششیں

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک طویل عرصے کے بعد فن و ثقافت سے منسلک فنکاروں نے اپنی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

ایک روز قبل شہر کے تین مختلف مقامات پر منعقد کی گئی تقریبات میں گلوکاروں اور فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

شہر کے سب سے بڑے ثقافتی مرکز نشتر ہال میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے زیر اہتمام ہونے والی موسیقی کی ایک تقریب میں میزبان کے فرائض سرانجام دینے والے معروف پشتو گلوکار بختیار خٹک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران تشدد اور انتہا پسندی کے رجحان نے فن ثقافت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

بختیار خٹک کا کہنا تھا کہ ثقافتی سرگرمیوں کا دوبارہ شروع ہونا ان کے بقول ”تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے“۔انھوں نے کہا کہ خطرات اور مشکلات کے باوجود وہ اور ان کے دیگر ساتھی ثقافتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں پر عزم ہیں۔ ”ہم نے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں سے یہ خوف بھی نکالنا ہے اور انھیں ثقافتی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے کیوں کہ قوم کی پہچان ثقافت سے ہوتی ہے اور وہ ان ہی باتوں سے زندہ ہوتی ہے۔“

نشتر ہال میں موسیقی کی تقریب میں بختیار خٹک کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مرد اور خواتین گلوکاروں نے بھی حصہ لیا۔

چند سال قبل خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں اس وقت ماند پڑ گئیں جب طالبان شدت پسندوں نے فنکاروں کو دھمکیاں دیں اور اپنا کام بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ عسکریت پسند وقتاً فوقتاً ایسی دکانوں کو بھی دھماکا خیز مواد سے تباہ کرتے آئی ہیں جس میں موسیقی اور فلموں کی سی ڈیز اور کیسٹیں فروخت کی جاتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG