رسائی کے لنکس

پشاور خودکش بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین

  • شمیم شاہد

پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار میں پیر شام ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس گلفت حسین اور جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر حاجی دوست محمد سمیت دیگر 20 سے زائد افراد کی نمازہ جنازہ منگل کی صبح ادا کردی گئی۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے منگل کو صحافیوں سے بات چیت میں اس عزم کو دہرایا کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ صوبائی حکومت نے ہلاکت خیز خودکش بم حملے پر تین روز
سو گ کا اعلان کر رکھا ہے اور منگل کو شہرمیں تاجر برادری کی کال پرشہر میں جزوی ہڑتال بھی جاری ہے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں تاجر برادری کے رہنماء حاجی محمد افضل نے کہا کہ تجارت سے وابستہ افراد ایک طرف جہاں بجلی کی طویل دورانیے کی بندش سے تنگ ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے اُن کو متاثر کردیا ہے۔

پیر کی شام قصہ خوانی بازار میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈ نگ کے خلاف احتجاجی ریلی کے خاتمے پر ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلا ک ہونے والوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے جب کہ زخمیوں میں اب بھی تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اس خودکش حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے مشتبہ خودکش بمبار کا خاکہ بھی جاری کیا ہے۔

خودکش بم حملے سے قبل پشاور کے ناصر باغ روڈ پر پولیس اسکول کے باہر بم دھماکے میں ایک چھ سالہ طالب علم ہلاک اور نو دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG