رسائی کے لنکس

پشاور مسجد پر حملہ، طالبان کمانڈر کے خلاف مقدمہ درج

  • شمیم شاہد،

امام بارگاہ سے ملحقہ امامیہ مسجد پر جمعہ کو حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے بعض کی نماز جنازہ ہفتہ کو اُن کے آبائی علاقوں میں ادا کر دی گئی۔

پشاور کے علاقے حیات آباد کی ایک مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں ہفتہ کو ہلاکتوں کی تعداد 22 ہو گئی ہے جب کہ لگ بھگ 40 افراد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

امام بارگاہ سے ملحقہ امامیہ مسجد پر جمعہ کو حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے بعض کی نماز جنازہ ہفتہ کو اُن کے آبائی علاقوں میں ادا کر دی گئی۔

اُدھر مقامی پولیس کے ایک ڈپٹی سپریٹنڈنٹ محمد عتیق شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان کے ایک گروپ کے سربراہ عمرعرف نرئے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خیبر ایجنسی میں ایک گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اُن کے ایک ساتھی عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو پھانسی دینے کا ردعمل تھا۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان پاکستانی فوج کے شعبہ صحت کا سابق اہلکار تھا اور اُسے مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے اور اکتوبر 2009 میں راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر دسمبر 2014ء میں عمل درآمد کیا گیا تھا۔

پشاور کے ایک اسکول پر 16 دسمبر 2014ء کو حملے کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی سزاؤں پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے۔

تجزیہ کار محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ حیات آباد میں امامیہ مسجد پر حملے کی آرمی پبلک اسکول پر حملے سے بظاہر مماثلت معلوم ہوتی ہے۔

اُن کے بقول آرمی پبلک اسکول میں بھی دہشت گرد عقبی دیوار سے داخل ہوئے اور مسجد پر بھی کچھ ایسے ہی انداز میں حملہ کیا گیا۔

دریں اثنا پولیس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی مسجد میں ملوث ایک خودکش بمبار کی بارود سے بھری جیکٹ کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے جب کہ مسجد سے دو کلاشنکوف اور دو دستی بم بھی ملے ہیں۔

پولیس کے مطابق امامیہ مسجد پر حملے میں تین سے چار شدت پسند ملوث تھے جن میں سے دو نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اُڑا دیا جب کہ ایک کے جسم سے بندھا بارودی مواد نا پھٹ سکا۔

اُدھر ملک کے مختلف حصوں میں سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پشاور کی مسجد پر حملے کی شدید مذمت کی اور احتجاج بھی کیا۔

دو ہفتوں کے دوران شیعہ مسلک کی مساجد پر یہ دوسرا حملہ تھا، اس سے قبل صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔

XS
SM
MD
LG