رسائی کے لنکس

پرل کانٹیننٹل ہوٹل کھلنے سے پشاور میں سماجی سرگرمیوں کا آغاز

  • شمیم شاہد

پرل کانٹیننٹل ہوٹل کھلنے سے پشاور میں سماجی سرگرمیوں کا آغاز

پرل کانٹیننٹل ہوٹل کھلنے سے پشاور میں سماجی سرگرمیوں کا آغاز

گذشتہ سال نو جون کو ہوٹل میں کار بم دھماکے میں اقوام متحدہ کے دو غیر ملکی اہلکاروں سمیت کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد ہوٹل کو بند کردیا گیا تھا

پشاور کا واحد فائیوسٹار ہوٹل پرل کانٹیننٹل تقریباً سات ماہ بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے تاہم ہوٹل کے بعض حصوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام اب بھی جار ی ہے۔ گذشتہ سال نو جون کو ہوٹل میں کار بم دھماکے میں اقوام متحدہ کے دو غیر ملکی اہلکاروں سمیت کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

بم دھماکے سے ہوٹل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ ہوٹل کے بند ہونے سے شہر میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ پر ل کانٹیننٹل کے کھلتے ہی پشاور میں سماجی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔

ہوٹل کے جنرل منیجرارجمندحسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پرل کانٹیننٹل صرف ہوٹل نہیں بلکہ شہر کی پہچان ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ لوگوں کی یادیں ا س ہوٹل سے وابستہ ہیں ”کئی بچوں کی شادیاں ہوئیں، یہاں بڑے بڑے سمینارمنعقد ہوئے اور اس ہوٹل کے بند ہونے سے پشاور کی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے“۔

ارجمند حسین نے بتایا کہ ہوٹل کے بند ہونے سے غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے پشاور کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں تھیں اورمختلف سیمینار اور کانفرنسوں کوبھی دوسرے شہروں میں منتقل کیا جانے لگا تھا۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اب دوبارہ شہرمیں عرصہ دراز سے معطل سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئی ہیں ۔

پشاور میں اس فائیو سٹار ہوٹل کے کھلنے سے قبل دہشت گردی سے متاثرہ وادی سوات میں بھی سیاحت کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت اور ہوٹل مالکان نے اقدامات شروع کر رکھے ہیں ۔ سوات ہوٹل مالکان کی تنظیم کے صدر زاہد خان کے بقول ان اقدامات کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG