رسائی کے لنکس

پشاور: داعش کا تشہیری مواد تقسیم کرنے پر دو افراد گرفتار

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ مشتبہ عسکریت پسند پلوسی کے علاقے میں داعش سے متعلق تشہیری مواد تقسیم کر رہے ہیں۔

صوبہ خیبر پختوںخواہ کے مرکزی شہر سے پولیس نے شدت پسند گروپ داعش کی حمایت میں تحریری مواد تقسیم کرنے والے دو مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ مشتبہ عسکریت پسند پلوسی کے علاقے میں داعش سے متعلق تشہیری مواد تقسیم کر رہے ہیں۔

محکمے کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے علاقے سے دو ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور ان کے قبضے سے داعش کی حمایت والا تحریری مواد بھی برآمد کیا۔

پولیس کے مطابق دیگر دو مبینہ عسکریت پسندوں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پمفلٹس پر شدت پسند گروپ سے متعلق اردو اور پشتو زبان میں پیغامات اور مضمون درج ہے۔

2014ء میں عراق اور شام کے ایک وسیع رقبے پر قبضہ کر کے وہاں نام نہاد خلاف کا قائم کرنے والے شدت پسند گروپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنا دائرہ اثر خراسان تک بڑھائے گا جس کے بعد افغانستان اور پاکستان کی بعض کالعدم انتہا پسند تنظیموں نے بھی اس گروپ سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

خراسان میں تاریخی اعتبار سے افغانستان پاکستان اور اس کے قرب و جوار کے علاقے شامل ہیں۔

پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں داعش کی کوئی منظم موجودگی نہیں ہے جب کہ پاکستانی فوج نے گزشتہ مہینے ہی یہ بتایا تھا کہ اس گروپ کی یہاں قدم جمانے کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے اس سے مبینہ طور پر وابستہ متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ماضی میں بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں داعش کی حمایت میں پمفلٹس تقسیم کیے جانے کے علاوہ دیواروں پر اس گروپ کے حق مں تحریریں بھی دیکھنے میں آچکی ہیں۔

پڑوسی ملک افغانستان کے خاص طور پر مشرقی حصوں میں داعش نے گزشتہ سال سے اپنے قدم جمانا شروع کیے تھے لیکن اسے افغان سکیورٹی فورسز کے علاوہ مقامی طالبان کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

XS
SM
MD
LG