رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ: پولیس پر شدت پسندوں کے حملے

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کے مطابق پولیس کا ایک قافلہ پشاور سے کوہاٹ جا رہا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے متنی میں گھات لگائے دہشت گردوں نے خود کار ہتھیاروں سے اس پر فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب پولیس کے ایک قافلے پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد سات ہوگئی۔

حکام نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک اہلکار نے ہفتہ کی صبح اسپتال میں دم توڑا۔

حکام کے مطابق پولیس کا یہ قافلہ پشاور سے کوہاٹ جا رہا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے متنی میں گھات لگائے دہشت گردوں نے خود کار ہتھیاروں سے اس پر فائرنگ شروع کر دی۔

اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے قافلے پر راکٹ بھی فائر کیا۔ زخمیوں میں کوہاٹ کے ضلعی پولیس افسر دلاور خان بنگش بھی شامل ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ادھر ہفتہ کی صبح ضلع دیر بالا میں شدت پسندوں نے معمول کی گشت میں مصروف پولیس اہلکاروں پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا جس میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

دریں اثناء پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف جیٹ طیاروں کی مدد سے کی جانے والی کارروائی میں چھ جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس علاقے میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کے باعث یہاں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تصدیق تقریباً نا ممکن ہے۔
XS
SM
MD
LG