رسائی کے لنکس

”دہشت گردحملوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے“

  • ب

”دہشت گردحملوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے“

”دہشت گردحملوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے“

ایک روز قبل خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری ”ایف سی“ کے سربراہ صفوت غیور کی نماز جنارہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات کے روز ادا کر دی گئی ۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں صوبائی حکام، سرکاری عہدیدار اور سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

صفوت غیور کو پشاور کے علاقے صدر میں ایف سی ہیڈکورٹر سے چند گز کے فاصلے پر اس وقت خودکش حملہ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ دفتر سے اپنے گھر جارہے تھے۔ اس واقعے میں ان کے محافظوں سمیت تین مزید افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

صفوت غیور کے جنازے میں شرکت کے بعد صوبائی وزیرِ اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حمایت سے محروم ہونے کے بعد شدت پسند خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں اور اسی مایوسی کے سبب انھوں نے صفوت غیور پر حملہ کیا ہے۔ اْن کے مطابق ایف سی کمانڈنٹ کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پیش پیش رہنے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر شدت پسند یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے حملوں سے حکومت، سکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلے پست ہو جائیں گے تو یہ ان کی سوچ ہے۔ انھوں نے صفوت غیور کی جرأت کی تعریف کرتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔

طالبان جنگجوؤں کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور صوبہ میں حکمران سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔

دریں اثنا وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے صفوت غیور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمال مغربی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کے بعد شدت پسند وں نے شہروں کا رخ کر لیا ہے البتہ خفیہ ادارے ان کا تعاقب کر رہے ہیں اور حالات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG