رسائی کے لنکس

پشاور: اعلیٰ پولیس افسر پر بم حملہ، دو اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ خود کش تھا اور موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور نے دھماکے کے لیے پانچ سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعرات کی صبح ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کی گاڑی پر ہوئے خودکش بم حملے میں کم ازکم دو پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق مرکزی شہر پشاور میں فرنٹیئر ریزروو پولیس کے ڈپٹی کمانڈنٹ ملک طارق اپنے دفتر جا رہے تھے کہ حیات آباد کے علاقے میں حملہ آور نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

حملے میں ملک طارق اور ان کے ساتھ موجود پولیس اہلکار اور ایک راہگیر زخمی ہو گئے جب کہ ان کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ خود کش تھا اور موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور نے دھماکے کے لیے پانچ سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے اور یہاں اس سے پہلے بھی اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں کے علاوہ پولیس پر ہلاکت خیز حملے ہو چکے ہیں۔

تقریباً ایک سال قبل قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور پھر بعد میں خیبر ایجنسی میں شروع کیے گئے بھرپور فوجی آپریشن میں حکام کے بقول دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔

ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے باعث ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری دیکھی جارہی ہے لیکن اب بھی ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG