رسائی کے لنکس

پشاور: زخمی خواجہ سرا علیشا دم توڑ گئی

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تنظیم کے ایک رکن قمر نسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو نشانہ بنایا جانا شرمناک بات ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں گزشتہ ہفتے فائرنگ سے زخمی ہونے والی مخنث (خواجہ سرا) بدھ کو اسپتال میں دم توڑ گئی۔

ان کا تعلق خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسجینڈرایکشن الائنس سے تھا۔

25 سالہ علیشا رواں سال نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے خیبرپختونخوا میں ہدف بنا کر قتل ہونے والی چھٹی مخنث تھیں۔

ان کی تنظیم کے لوگوں نے علیشا کی موت پر احتجاج کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے خواجہ سراؤں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

تنظیم کے ایک رکن قمر نسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو نشانہ بنایا جانا شرمناک بات ہے۔

انھوں نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ پر علیشا کو علاج کی مناسب سہولت فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

"سنگین پہلو جو ہمارے سامنے آیا ہے کہ علیشا کوبنیادی صحت کی سہولت فراہم نہیں کی جاسکی۔۔۔ اسے خواتین کی وارڈ اور مردوں کے وارڈ کے بیچ دوڑاتے رہے، وہ برآمدے میں ہی پڑی رہی۔"

قمر نسیم کے بقول اسپتال کی ایمبولنس علیشا کی لاش کو مبینہ طور پر فقیر آباد کے علاقے میں سڑک پر ہی "رکھ" کر چلی گئی۔

صوبائی حکومت یا اسپتال کی طرف سے ان الزام پر تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن بتایا جاتا ہے کہ علیشا کی عیادت کے لیے صوبائی حکومت کے عہدیدار اسد قیصر نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کیا تھا اور ان پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

XS
SM
MD
LG