رسائی کے لنکس

پشاور، مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کی بسیں چلیں گی

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ماضی میں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس ’جی ٹی ایس‘ میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص ہوتی تھیں لیکن بعد میں وہ بس سروس ہی ختم کر دی گئی۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ حکومت اقوام متحدہ اور جاپان کے مالی تعاون سے خواتین کے سہولیات کے لیے صوبے کے تین بڑے شہروں میں خصوصی بسیں چلانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

صوبائی سیکرٹری برائے محکمہ ٹرانسپورٹ وقاص صالحین نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں 14 بسیں پشاور،مردان اور ایبٹ آباد میں چلائی جائیں گی اس منصوبے کو ان کے بقول آئندہ چار سے پانچ مہینوں میں عملی شکل دی جائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی اس منصوبے کو وسعت دی جائے گی۔

ان بسوں کے ڈرائیور تو مرد ہوں گے تاہم صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق ان کے معاون عملے میں خواتین کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ثناء اعجاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس منصوبہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اس قسم کی سہولت فراہم کرنے سے خواتین کی مشکلات میں کمی آ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سرکاری ٹرانسپورٹ سروس ’جی ٹی ایس‘ میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص ہوتی تھیں لیکن بعد میں وہ بس سروس ہی ختم کر دی گئی۔

صوبائی ٹرانسپورٹ محکمے کے ڈائریکٹر منظور خان کہتے ہیں کہ اس منصوبے پر عمل درآمد آئندہ سال مارچ سے شروع ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG