رسائی کے لنکس

پشاور اسکول حملے کی عدالتی تحقیقات کی درخواست


لواحقین ہلاک ہونے والے بچوں کی تصویریں اٹھائے کھڑے ہیں۔ فائل فوٹو

لواحقین ہلاک ہونے والے بچوں کی تصویریں اٹھائے کھڑے ہیں۔ فائل فوٹو

اس سے قبل عورتوں کے عالمی دن پر پشاور سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی ماؤں نے بھی عدالت میں ایسی ہی ایک درخواست جمع کرائی تھی جس میں عدالتی تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ نے منگل کو ایک رٹ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ 2014 میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس دہشت گرد حملے میں 100 سے زائد بچوں سمیت لگ بھگ 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق یہ درخواست ’اے پی ایس شہدا فاؤنڈیشن‘ کے صدر عجون خان نے متاثرہ والدین کی طرف سے جمع کرائی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس مہلک حملے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا حکم دے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔

اس پٹیشن میں خیبر پختونخوا حکومت، صوبائی وزیر داخلہ، فاٹا کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل اور وفاق پاکستان کو داخلہ سیکرٹری کے ذریعے فریق بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل عورتوں کے عالمی دن پر پشاور سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی ماؤں نے بھی عدالت میں ایسی ہی ایک درخواست جمع کرائی تھی جس میں عدالتی تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی تھی۔

پشاور سکول حملے کے بعد حکومت نے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی لائحہ عمل تشکیل دیا جس کے بعد قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنے کے علاوہ ملک بھر مییں سکیورٹی آپریشنز اور دیگر اقدامات کیے گئے۔

فوج نے حملے میں ملوث افراد کو فوجی عدالتوں میں سزائے موت دینے کا بھی اعلان کیا تھا جن میں سے چند کی سزا پر عملدر آمد کیا جا چکا ہے۔

تاہم بعض متاثرہ والدین ان اقدامات سے مطمئین نہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حملے کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئں۔

XS
SM
MD
LG