رسائی کے لنکس

انگور اڈہ پوسٹ افغانستان کے حوالے کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج


انگور اڈہ سرحدی پوسٹ

انگور اڈہ سرحدی پوسٹ

انعام الرحیم نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا  کہ دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف پاکستان کی پارلیمان کے پاس ہے۔

افغانستان کے ساتھ ملحق پاکستان کی مغربی سرحد پر واقع انگور اڈہ کی سرحدی چوکی کو افغان حکومت کے حوالے کرنے کے اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

یہ درخواست ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں دائر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ انعام الرحیم پاکستانی فوج کے ایک سابق اسسٹنٹ جج ایڈوکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انعام الرحیم نے کہا کہ ان کا موقف ہے کہ ایسے فیصلے کرنے کا اختیار صرف پاکستان کی پارلیمان کے پاس ہے اور کسی دوسرے کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی کسی بھی سرحدی پوسٹ، قلعے یا علاقے کو کسی دوسرے ملک کے حوالے کر دے۔

ان کے بقول ایسا کرنا نا صرف پاکستان کے آئین کے خلاف ہے بلکہ یہ پاکستان آرمی ایکٹ کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

اپنی درخواست میں انعام الرحیم نے لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ انگور اڈہ چیک پوسٹ کا انتظام منتقل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر ایسے اقدام کرنے والے سینئر افسران کے خلاف کارروائی اور سرحدی چوکی کی واپسی کے لیے حکم جاری کرے۔

انعام الرحیم نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے 21 مئی کو اپنے ٹوئیڑ پیغام میں انگوڑ اڈہ چیک پوسٹ کو افغان حکومت کے حوالے کرنے کا بتایا تھا۔

تاہم انعام الرحیم نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف پاکستان کی پارلیمان کے پاس ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور نا ہی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی طرف سے تاحال اس درخواست کے بارے میں کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ کے اواخر میں پاکستان نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے مقام پر قائم ایک سرحدی چوکی کو افغان حکومت کے حوالے کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے مطابق افغانستان سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدام کے طور پر انگور اڈہ کراسنگ پوائنٹ افغان حکومت کے حوالے کیا گیا۔ دو طرفہ سرحد کی نگرانی بہتر بنانے کی غرض سے یہ چیک پوسٹ قائم کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG