رسائی کے لنکس

پاکستان کے خلاف ’آن لائن پٹیشن‘ وائٹ ہاؤس نے بند کر دی


وائٹ ہاؤس (فائل فوٹو)

وائٹ ہاؤس (فائل فوٹو)

وہائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس پٹیشن کو اس بنا پر بند کیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں دستخطوں سے متعلق شرائط کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس عوامی پٹیشن کو بند کر دیا ہے جس میں امریکہ انتظامیہ سے پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کے لیے کہا گیا تھا۔

یہ پٹیشن ' وی دا پیپل‘ یعنی 'ہم عوام' نامی ویب سائٹ پر شروع کی گئی تھی۔ اس ویب سائیٹ ذریعے لوگ وائٹ ہاؤس کے نام کسی بھی معاملے کے بارے میں پٹیشن بھیج سکتے ہیں۔ اگر ایک ماہ کے اندر اس یٹیشن پر ایک لاکھ سے زائد لوگ آن لائن دستخط کر دیں تو وائٹ ہاؤس کے لیے دو ماہ کے اندر اس معاملے کے بارے میں جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔

عوامی پٹیشن کی ویب سائیٹ پر وہائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس پٹیشن کو اس بنا پر بند کیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں دستخطوں سے متعلق شرائط کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔

اس پٹیشن کا آغاز کرنے والے کی شناخت ان کے نام کے ابتدائی انگریزی حروف 'آر جی' سے کی گئی، تاہم اس بارے میں کوئی مزید تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔

پاکستان کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے اس پیٹشن کو بند کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا خطے میں کردار نہایت اہم ہے اور ان کے بقول امریکہ اتنظامیہ کو بھی اس بات کا ادارک ہے۔

’’یہ ایک بہتر (اقدام) ہے ایک طرف مودی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کو تنہا کر دیں گے اور ان کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کو بھی دھچکا لگے گا ۔۔۔خطے میں اہمیت کی وجہ سے پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘

دوسری طرف پاکستان نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے معاملے سے متعلق مجوزہ قانون کو صدر براک اوباما کے ویٹو کرنے کے فیصلے کو امریکی کانگرس کی طرف سے مسترد کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "یورپ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے بھی 'جے اے ایس ٹی اے' کے بارے میں اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔"

"دہشت گردی کے معاونین سے انصاف کے حصول" کے قانون کے تحت امریکہ میں ستمبر 11 کے دہشت گرد حملوں کے متاثرین، ان غیر ملکی افراد، اداروں اور حکومتوں کے خلاف مقدمات دائر کر سکیں گے جنہوں نے مبینہ طور ان حملوں کی معاونت کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان قبل ازیں بھی اس قانونی سازی پر اس بنا اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے کہ اس قانون کو امریکہ کے باہر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکہترویں اجلاس میں خطاب کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ "وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہر طرح کی (دہشت گردی) سے جامع طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی برادری کو اپنی کوششیں مربوط کرنی ہوں گی۔"

نواز شریف نے کہا کہ ایسی کوششیں کو مشترکہ طور پر کرنے کی ضرورت ہے نا کہ یکطرفہ طور پر کسی طرح کے قانون بنا کر جن کا اطلاق ملک کی حدوں کے باہر کیا جا سکے اور بعض ممالک اس کا ہدف ہوں۔

XS
SM
MD
LG