رسائی کے لنکس

افغانستان سے فوجوں کی بتدریج واپسی کا عمل جلد شروع ہوگا: پیٹریاس


افغانستان سے فوجوں کی بتدریج واپسی کا عمل جلد شروع ہوگا: پیٹریاس

افغانستان سے فوجوں کی بتدریج واپسی کا عمل جلد شروع ہوگا: پیٹریاس

اُنھوں نے کہا کہ اہم علاقوں میں طالبان کی حالیہ پسپائی فوجوں میں اضافے کے باعث ہوئی ہے اور اُنھوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں باغیوں کی کارروائیوں کو روک دیا گیا ہے، اور متعدد اہم علاقوں میں حالات کو پلٹ دیا گیا ہے جن میں قندہار اور ہلمند کے صوبے بھی شامل ہیں

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اُن کی افواج نے طالبان کے خلاف اہم پیش رفت حاصل کرلی ہے، اور اِس طرح پروگرام کےمطابق جولائی سے کچھ افواج کی واپسی کا کام شروع ہوسکےگا۔

تاہم جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے منگل کو انتباہ دیا کہ فوجوں کا انخلا بتدریج ہوگا، تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جِن علاقوں میں افغان فوج اور سرکاری عہدے داروں کو ذمہ داری سونپی جارہی ہے وہ اُسے سنبھالنے کے قابل ہوں۔

پیٹریاس نےیہ بیان امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سامنےافغانستان پر سماعت کے دوران دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اہم علاقوں میں طالبان کی حالیہ پسپائی فوجوں میں اضافے کے باعث ممکن ہوئی ہے اور اُنھوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں باغیوں کی کارروائیوں کو روک دیا گیا ہے اور متعدد اہم علاقوں میں حالات کو پلٹ دیا گیا ہے جِن میں قندہار اورہلمندکے صوبے بھی شامل ہیں۔

تاہم جنرل نے اِس انتباہ کا اعادہ بھی کیا کہ حاصل ہونےوالی کامیابیاں نا پائیدار ہیں اور یہ کہ شہری تعمیر ِنو کی کوششوں کے لیے رقوم کی عدم فراہمی افغان عبوری دور کے حصول میں کامیابی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
پیٹریاس کا کہنا تھا کہ امریکہ کی یہ کوشش ہوگی کہ عبوری دور کی طرف ایکساتھ بڑھا جائے، اور اِس کے لیے درست اقدام لازم ہوگا۔

XS
SM
MD
LG