رسائی کے لنکس

سولین آبادی اور فوجوں کا تحفظ، جنرل پیٹریاس کا ہدایت نامہ


جنرل پیٹریاس (فائل فوٹو)

جنرل پیٹریاس (فائل فوٹو)

کمان سنبھالنے کے بعد،افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کےاعلیٰ کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیر یاس نے بدھ کے روزسارے یونٹوں کو حکمتِ عملی سے متعلق پہلا حکم نامہ جاری کیا۔

حکم نامے میں ڈسپلن کےدائرے میں رہتے ہوئے طاقت کےاستعمال پر ہدایات اوراغراض کی نشاندہی کی گئی ہے، جن پر عمل پیرا ہو کر اور افغان سکیورٹی فورسز کی شراکت میں بغاوت کو کچلا جاسکے۔

إِس میں کہا گیا ہے کہ طاقت کا اُس وقت تک استعمال نہ کیا جائے جب تک افغان شہریوں کو نقصان نہ پنچنے کا یقین نہیں کر لیا جاتا، ماسوائے دو طرح کی صورتوں کے۔

حکم نامے کے إِس حصے کے اصل الفاظ کو سیغہٴ راز میں رکھا گیا ہے۔ لیکن نیٹو کمان کی ایک رلیز میں کہا گیا ہے کہ افغان سولینز کوصرف اُس وقت خطرے میں ڈالا جا سکتا ہے جب یہ بات طے ہوجائےکہ بین الاقوامی یا افغان فوجوں کی حفاظت کااورکوئی متبادل دستیاب نہیں۔

کچھ فوجیوں نے شکایت کی تھی کہ پیر یاس کے پیش رو، جنرل اسٹینلے مک کرسٹل کی طرف سے سال بھر قبل جاری ہونے والے ہدایت نامے میں اُنھیں اپنے دفاع کی بہت ہی کم گنجائش دی گئی تھی۔

جون میں ہونے والی سینیٹ کی سماعت کے دوران جنرل پیٹریاس نے کہا تھا کہ اگرچہ مقامی آبادی کا تحفظ اہم معاملہ ہے، وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ فوجوں کے لیے یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اپنا تحفظ کرنے کے قابل ہوں۔

XS
SM
MD
LG