رسائی کے لنکس

ڈیوڈ پیٹریاس کی جنرل کیانی سے ملاقات


جنرل کیانی اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی ملاقات (فائل فوٹو)

جنرل کیانی اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی ملاقات (فائل فوٹو)

امریکی جنرل نے یہ دورہ ایسے وقت کیا جب صدر براک اوباما اپنی انتظامیہ کی افغان حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ طالبان شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کے سلسلے میں امریکہ نے رواں برس 30 ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیجے تھے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے پیر کو پاکستان کا دورہ کیا اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی۔

امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے معاملات اور علاقائی سلامتی کی صورت حال بہتر بنانے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق جنرل پیٹریاس کا بطور ایساف کمانڈر پاکستان کا یہ چوتھا دورہ تھا۔ تاہم اس سے قبل بطور امریکی سنٹرل کمان کے سربراہ کے طور پر بھی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس متعد بار پاکستان آ چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اُن کے جنرل کیانی اور پاکستانی فوج سے دیرینہ تعلقات ہیں۔

اُدھر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے نائب سربراہ مائیکل مورل نے پیر کی شام پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں افغانستان میں سلامتی کی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق بات چیت کے دوران افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء سے متعلق نئی حکمت عملی، افغان حکومت کی مفاہمتی کوششیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار سمیت دفاعی شعبے میں پاک امریکہ تعاون جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان، امریکہ، افغانستان اور دیگر اتحادی ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ اُنھوں نے امید ظاہر کی کہ طرفین دفاع، سکیورٹی اور خفیہ معلومات کے تبادلے میں تعاون میں مزید ضافہ کریں گے۔

امریکی عہدیداروں نے دورے ایسے وقت کیے جب صدر براک اوباما اپنی انتظامیہ کی افغان حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ طالبان شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کے سلسلے میں امریکہ نے رواں برس 30 ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیجے تھے۔

امریکی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں نو برس سے جاری جنگ میں کامیابی کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے کیوں کہ عسکریت پسندوں نے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں جنھیں وہ غیر ملکی افواج پر مہلک حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ مہینوں کے دوران امریکہ کی طرف سے اس مطالبے میں اضافہ ہوا ہے کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف بھرپور فوجی کرے جب کہ اس علاقے میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں بھی خاطر خواہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستانی میں اُس کے لگ بھگ 34 ہزارفوجی تعینات ہیں اور اس قبائلی علاقے میں بھرپور فوجی کارروائی کا فیصلہ زمینی حقائق اور سہولت کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG