رسائی کے لنکس

فلپائن کے ایک بازار میں بم دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکا ملک کے صدر روڈریگو دوترتے کے آبائی شہر ڈاوو کے ایک مصروف بازار میں ہوا۔

جب یہ دھماکا ہوا تو صدر اپنے آبائی شہر ہی میں تھے، بم دھماکا بازار میں ایک پرتعیش مارکو پولو ہوٹل کے قریب ہوا، جہاں عموماً صدر آ کر رہتے رہے۔

فلپائن کے صدر نے ہفتہ کو شہر میں ’لاقانونیت‘ ایسے حالات کا نفاذ کر دیا، اور اس اعلان سے فوج کو بھی یہ اجازت مل گئی کہ وہ پولیس کے ساتھ اپنی چوکیاں بھی قائم کرے اور گشت کو بڑھائے۔

روڈریگو دوترتے رواں سال جون میں منصب صدارت سنھبالنے سے قبل اپنے شہر کے 22 سال تک میئر رہے اور اُنھیں یہاں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔

شدت پسند گروہ ابوسیاف نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن تفتیشں کار اس بم حملے میں ممکنہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے عناصر کے ملوث ہونے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شدت پسند گروہ ابوسیاف دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ سے وابستگی کا اعلان کر چکا ہے۔ ابوسیاف تنظیم کے جنگجو ملک میں مہلک بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان اور یرغمالیوں کو قتل کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG