رسائی کے لنکس

فلپائن:حکومت اور مسلمان باغیوں کے درمیان سمجھوتے کی کوششیں

  • سائمن اورینڈین

مراد ابراہیم

مراد ابراہیم

فلپائن میں حکومت اور مسلمان باغیوں کے سب سے بڑے گروپ کے درمیان گذشتہ پندرہ برسوں سے امن کے سمجھوتے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ حالیہ مہینوں کے درمیان کچھ امید پیدا ہو ئی ہے کیوں کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ مکمل آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہو گیا ہے اور حکومت نے انہیں زیادہ خود مختاری کی پیشکش کی ہے ۔ لیکن تعطل جاری ہے اور طویل عرصے سے جاری اس بغاوت سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

کوٹاباٹو سٹی میں صبح چھ بجے ایک اسلامی اسکول کی عمارت سے اذان کی آواز گونج رہی ہے ۔ اس عمارت کے اندر، ایک 70 سالہ خاتون جن کا نام عائشہ ہے لیکن جنہیں سب آنٹی کہتے ہیں، بتاتی ہیں کہ انہیں پہلی بار کب مسلمان باغیوں اور فلپائن کی حکومت کے درمیان جنگ کی وجہ سے اپنا گھر بارچھوڑنا پڑا تھا ۔ آنٹی کہتی ہیں کہ وہ ستر کی دہائی میں بیوہ ہوئی تھیں جب مارکوس کی حکومت کے زمانے میں، علیحدگی کی تحریک کو ختم کرنے کے لیے پہلی بار مارشل لا کا نفاذ کیا گیا تھا۔

آنٹی کہتی ہیں کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم سب چین سے رہ رہے تھے لیکن جب لڑائی شروع ہوئی تو ہمیں اپنے مویشی اور گھر بار سب کچھ چھوڑنا پڑا ۔ یہ اس طویل جنگ کی ابتدا تھی جس سے ملک کے اس حصے کے تمام گھرانے متاثرہوئے ہیں۔

2008 میں حکومت اور باغیوں کے درمیان ایک بار پھر لڑائی شروع ہو گئی اور آنٹی کو ایک بار پھر ، ہزاروں دوسرے لوگوں کی طرح ، اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ۔ ان کی طرح بہت سے لوگوں کو تو اب یہ بھی یاد نہیں کہ گذشتہ چار عشروں کی لڑائی کے دوران وہ کتنی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔

فلپائن کے مسلمان اکثریت والے علاقے منداناؤ کے بارے میں عالمی بنک کے ایک تحقیقی مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 2005 تک، اس تنازع میں بیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ، اور ایک لاکھ بیس ہزار ہلاک ہو چکے تھے۔

کوٹاباٹو سٹی سے تقریباً 10 کلو میٹر شمال مشرق میں، مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے کیمپ دراپانن میں ، درجنوں جنگجو اپنے لیڈر، چیئر مین مراد ابراہیم کو سلیوٹ کر رہے ہیں۔ چیئر مین ایک نیوز بریفنگ میں بتا رہے ہیں کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور فلپائن کی حکومت کے درمیان تازہ ترین تعطل کس وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ مقامی لوگ کس لیے لڑ رہےہیں’’یہ لوگ اپنی حکومت خود چلانا چاہتے ہیں۔ یہ اپنا سیاسی مستقبل خود طے کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنا طرز زندگی خود متعین کرنا چاہتے ہیں۔ بانگسامورو لوگوں کی یہی آرزو ہے۔‘‘

باغیوں نے بانگسامورو کی اصطلاح بنائی جس میں مسلمان، قدیمی باشندے، اور علاقے میں رہنے والے آباد کار شامل ہیں۔ جنوب میں رہنے والے مسلمانوں نے 1500 میں اسپین کے آبادکاروں اور 1800 کے آخر میں امریکیوں سے جنگ کی، لیکن اس کشمکش میں وہ اپنی زمینوں اور اپنے طرز ِ حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بیسویں صدی کے بیشتر حصے میں وہ مسلسل یہ کوشش کرتے رہے کہ جو کچھ انھوں نے کھویا ہے وہ واپس مل جائے۔ مرادکہتے ہیں کہ اب وہ فلپائن سے مکمل آزادی نہیں چاہتے۔ وہ فلپائن کے اندر ایک ذیلی ریاست چاہتے ہیں جس کا اپنا عدالتی نظام ہو،لیکن جو دفاع ،کرنسی اور پوسٹل سروس کے لیے مرکزی حکومت پر انحصار کرے۔

2008 میں مسئلہ یہ تھا کہ زمین پر ان کے دعوؤں کو اور مجوزہ عدالتی نظام کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے دیا۔ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے دو کمانڈروں نے جو اس فیصلے پر نا خوش تھے، حملے شروع کر دیے جن کے نتیجے میں حکومت کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے نائب چیئر مین غزالی جعفر کہتے ہیں کہ امن سمجھوتے کے بغیر جتنا وقت گذرے گا، اتنا ہی اس بات کا امکان زیادہ ہوگاکہ کچھ کمانڈرز کو فرنٹ پر اعتمادنہیں رہے گا اور وہ اس سے الگ ہوجائیں گے ۔ ’’اگر وہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور فلپائن کی حکومت کے درمیان سمجھوتوں ، اور جنگ بندی کے سمجھوتے کے پابند نہیں رہیں گے، تو یہ بڑی خطرناک صورتِحال ہوگی۔‘‘

اگست کے آخر میں، مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے ایک اعلیٰ درجے کے کمانڈر کو نکال دیا جس نے اپنا الگ گروپ بنا لیا اور فلپائن سے مکمل علیحدگی کے لیے جہاد کا اعلان کر دیا ۔ اس کے علاوہ، چیئر مین مراد نے انتباہ کیا ہے کہ اگر مذاکرات تعطل کا شکار رہے، تو جنگ بندی پر عمل در آمد کرنے والی بین الاقوامی ٹیم اپنی تعیناتی کو جلد ختم کر سکتی ہے۔’’اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلح جد وجہد پھر شروع ہو جائے گی۔ اور ہم یہ بالکل نہیں چاہتے کیوں کہ جہاں تک مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کا تعلق ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سیاسی جد و جہد میں بہت آگے جا چکے ہیں۔ ہم نے اس کام میں 14 سال صرف کیے ہیں اور بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔ اگر ہم پھر ایک بار جنگ کی راہ پر واپس چلے جائیں، تو سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔‘‘

اگست کے شروع میں، چیئرمین مراد اور صدر بنیگنوآکیونو کے درمیان ٹوکیو کے مضافات میں ملاقات ہوئی ۔ ایک صدر اور باغی لیڈرکے درمیان یہ اس قسم کی پہلی میٹنگ تھی اور انھوں نے اتفاق کیا کہ امن مذاکرات میں تیزی آنی چاہئیے۔ لیکن تین ہفتوں کے بعد، مذاکرات کا اگلا راؤنڈ اچانک ختم ہو گیا۔

مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کی مذاکراتی ٹیم نے اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں مسلمان منداناؤ علاقے کو وسیع تر خود مختاری دینے اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں، پائیدار امن، اور مسلمانوں کی تاریخی جد وجہد کے اعتراف کے لیے کہا گیا تھا۔ سرکاری عہدے داروں نے کہا کہ وہ ایک ذیلی مملکت قائم کرنے کی تجویز قبول نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ اس کے لیے فلپائن کے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔

مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کی مذاکراتی ٹیم نے سفارش کی کہ ان کی سینٹرل کمیٹی اس تجویز کو مسترد کردے۔ سرکاری مذاکرات کار ماروک لیونن کہتے ہیں کہ مذاکرات میں ایسا ہونا معمول کی بات ہے۔’’میں جانتا ہوں کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کی اور حکومت کی تجاویز میں کس طرح ایک دوسرے سے مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے ۔ اگر مورو اسلامک لبریشن فرنٹ حکومت کے نقطۂ نظر کو خلوص اور دیانتداری سے سمجھ لے، تو مزید پیش رفت ممکن ہے۔‘‘

لیونن کہتے ہیں کہ اگر حکومت کامسودہ سرکاری طور پر مستردکر دیا جاتا ہے، تو پھر ان کے خیال میں کوئی وجہ باقی نہیں رہتی کہ ہم مذاکرات کی میز پر واپس جائیں۔ اب تک، سرکاری طور پر مسودہ کو مسترد نہیں کیاگیا ہے اور دونوں فریق کہتے ہیں کہ وہ بات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی وہ ایک دوسرے پر تنقیدکرتے رہتے ہیں۔

اس دوران، آنٹی اور دوسرے کاشتکار مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ وہ اس آسرے پر زندہ ہیں کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور حکومت کے درمیان کوئی پائیدار امن سمجھوتہ ہو جائے گا۔ لیکن 14 برسوں کے دوران، یہ مذاکرات اتنی بار ختم اور پھر شروع ہوئے ہیں، کہ مستقبل کے امکانات کچھ زیادہ روشن نہیں۔

XS
SM
MD
LG