رسائی کے لنکس

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس ایڈ کے عہدیدار جرمی کونینڈیاک کا کہنا ہے کہ امریکی افواج دیگر سویلین امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کے دائرہ کار میں وسعت کے تناظر میں یہاں اپنی موجودگی کو کم کر رہی ہیں۔

فلپائن میں سمندری طوفان ’ہائیان‘ سے تباہ حال علاقوں میں اب تلاش و تعمیر نو کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں اور اسی باعث امریکہ نے اپنی ہنگامی امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار مختصر کرنا شروع کر دیا ہے۔

آٹھ نومبر کو طاقتور ترین سمندری طوفان نے فلپائن کے بڑے حصے میں تباہی مچا دی تھی جس سے کم از کم پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک، 40 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور اربوں روپے کی فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

جوہری توانائی سے چلنے والا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن امدادی کاموں میں حصہ لینے کے بعد یہاں سے روانہ ہو گیا ہے تاہم دس سی۔130 طیارے فلپائن میں امدادی سامان کی ترسیل میں مصروف ہیں۔

گزشتہ ہفتے آفت زدہ علاقوں میں امریکہ کے لگ بھگ 50 جہاز اور کشتیاں موجود تھیں۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی یو ایس ایڈ کے عہدیدار جرمی کونینڈیاک کا کہنا ہے کہ امریکی افواج دیگر سویلین امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کے دائرہ کار میں وسعت کے تناظر میں یہاں اپنی موجودگی کو کم کر رہی ہیں۔

’’گزشتہ ایک ہفتے میں ہم نے یہ دیکھا کہ انھوں نے استعداد کار کو بہتر بنانے کے عبوری منصوبے پر کام کیا لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ طویل المدت کام کے لیے یہاں سویلین تنظیموں کا کردار بڑھایا جائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’تیس لاکھ لوگوں تک خوراک پہنچائی گئی، لاکھوں افراد اور خاندانوں کو عارضی پناہ گاہیں مہیا کی گئیں اور میرا خیال ہے کہ اب ہنگامی امداد کی ضرورت کم ہوتی جاری ہے۔‘‘

کونینڈیاک نے کہا کہ اگلے مرحلے میں یو ایس ایڈ اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیمیں تعمیر نو کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جائیں گے جس میں کسانوں اور ماہی گیروں سمیت دیگر افراد کے لیے ترجیحی بنیادوں پر گھروں اور اشیائے ضروری کی فراہمی شامل ہے۔
اقوام متحدہ ’ہائیان‘ سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کا خاکہ نو دسمبر تک تیار کر لے گی۔ عالمی بینک نے امداد اور تعمیر نو کی کوششوں میں معاونت کے لیے اپنی مجموعی امداد کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG