رسائی کے لنکس

فلپائن : امریکہ کی مدد سے دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی

  • سائیمن اورنڈائن

فلپائن : امریکہ کی مدد سے دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی

فلپائن : امریکہ کی مدد سے دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی

فلپائن کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے بڑے بڑے نیٹ ورکس کے ساتھ تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف جو کوششیں کی ہیں ان کے اچھے نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ایک عشرے سے جاری وہ مدد ہے جو امریکہ نے دہشت گردی کے انسداد کے لیے فراہم کی ہے ۔ تا ہم ان کامیابیوں کی وجہ سے کچھ نئے چیلنج بھی پیدا ہوئے ہیں۔

فروری کے شروع میں، فلپائن کی ایئر فورس نے علی الصباح ایک ہوائی حملہ کیا جس میں 15 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ۔ ان میں ابو سیاف کی سولو صوبے کی شاخ کا سربراہ بھی شامل تھا ۔ یہ کارروائی جنوب کے شورش زدہ علاقے میں جولو کے جزیرے میں کی گئی۔ کارروائی سے پہلے ایک مہینے تک فوجیں اس گروپ کی نگرانی کرتی رہی تھیں۔ فلپائن کی فوج کے ترجمان، کرنل ارنولفو برگوس کہتے ہیں کہ ٹیکنیکل مدد کے علاوہ، امریکہ نے اس گروپ کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

’’ہم نے ایک گروپ کی حیثیت سے ان کی ہلاک خیزی کم کر دی ہے ۔ اب وہ منتشر ہو چکے ہیں۔ ا ب اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم ان پر دباؤ ڈالنا جاری رکھیں، اور اپنی انٹیلی جنس جمع کرنے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔‘‘

رومیل بانلاوئی فلپائن انسٹی ٹیوٹ فار پیس، وائیلنس اینڈ ٹیررازم ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ امریکی فوج کو جو جنوب میں ابو سیاف کے گڑھ کے نزدیک تعینات ہے، اپنا کام جاری رکھنا چاہیئے۔’’فلپائن کی صلاحیتوں کی تعمیر میں، امریکی کوششوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیئے کیوں کہ اگر امریکہ کی طرف سے مسلسل تربیت فراہم نہ کی جا رہی ہوتی، تو فلپائن کے نفاذِ قانون کے عہدے دارو ں کی صلاحیتیں اس حد تک بہتر نہ ہو سکتی تھیں کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کر سکتے۔ لہٰذا امریکہ کا رول بہت اہم ہے۔‘‘

ابو سیاف کی دہشت کا چرچا 1990 کے عشرے میں شروع ہوا جب یہ گروپ جنوبی فلپائن میں ایک نسبتاً بڑے علیحدگی پسند مسلمان گروپ سے الگ ہو گیا ۔ اس کی ابتدا ایک ایسے نظریاتی گروپ کی حیثیت سے ہوئی جو ایک علیحدہ اسلامی مملکت قائم کرنا چاہتا تھا ۔ اسے القاعدہ سمیت مشرق ِ وسطیٰ کے لوگوں سے عطیات ملتے تھے ۔ اس گروپ نے غیر ملکیوں کو اغوا کرنا شروع کر دیا ۔ 2001 میں اس نے فلپائن کے ایک تفریحی مقام سے 20 افراد کو یرغمال بنا لیا ۔ اس واقعے میں، انھوں نے ایک امریکی کا سر قلم کر دیا جب کہ ایک اور امریکی اس وقت گولیوں کا نشانہ بن گیا جب یرغمال بنائے ہوئے لوگوں کی بازیابی کی کارروائی کی گئی۔

2005 کے لگ بھگ، اس گروپ نے اپنی توجہ بم بنانے پر مرکوز کردی۔ اس کام میں القاعدہ سے وابستہ انڈونیشیا کی دہشت گرد تنظیم الجماعة الإسلامية‎ نے تربیت فراہم کی ۔ انھوں نے منیلا اور فلپائن کے دوسرے بڑے شہروں میں بموں کے دھماکے کیے جن میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ چند برس بعد، ان کی فنڈز جمع کرنے کی سرگرمیاں دنیا بھر میں ان مربوط اقدامات سے متاثر ہوئیں جن کا مقصد بیرونی ملکوں سے دہشت گردی کے لیے ملنے والی مدد کو ختم کرنا تھا ۔ لہٰذا ، اس گروپ نے فنڈز جمع کرنے کے لیے زرِ تاوان کے لیے اغوا کی وارداتیں پھر شروع کر دیں۔

تجزیہ کار بانلاوئی کہتے ہیں کہ اب مجرمانہ عناصر سے ا س گروپ کے تعلقات بڑے گہرے ہیں۔’’ان کی سخت جانی کی وجہ یہ ہے کہ منڈاناؤ میں ان کے نیٹ ورکس بہت وسیع ہیں۔ ان کے نیٹ ورکس میں بحری قزاق، اسمگلر، اغوا کرنے والے، پیسہ اینٹھنے والے، اور پرائیویٹ مسلح گروپ ، سب ہی شامل ہیں، جنگی سرداروں کے ساتھ بھی انھوں نے نیٹ ورکس قائم کر رکھے ہیں۔‘‘

ماریا ریسا سنگاپور کے انٹرنیشنل سنٹر فار پولیٹیکل وائلنس اینڈ ٹیررازم ریسرچ سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بڑی حد تک کامیاب ہو رہی ہے اور اسامہ بن لادن جیسے چوٹی کے بین الاقوامی دہشت گرد ، ہلاک ہو چکے ہیں۔ تا ہم وہ کہتی ہیں کہ فلپائن کے ابو سیاف گروپ کی دہشت گردی کا محرک اب نظریاتی نہیں بلکہ مجرمانہ کارروائیاں ہیں۔ اس طرح امریکہ مشکل میں پڑ گیا ہے۔

ریسا کہتی ہیں کہ جنوب میں بنیادی مسئلہ خراب نظم و نسق کا ہے۔’’اگر کرپشن کی سطح اتنی زیادہ ہو کہ مقامی حکومتیں انتظام نہ چلا سکیں، تو پھر لوگ کس کے پاس جائیں؟ وہ کس کا اعتبار کریں؟ کسی حد تک ہم یہ دیکھ رہےہیں کہ فلپائن کے لوگ جانتے ہیں کہ امریکی فورسز کرپٹ نہیں ہیں اور ان کی وجہ سے کچھ اطمینان ملتا ہے ۔ لیکن یہ وہ رول نہیں ہے جو امریکیوں کو ادا کرنا ہے۔ لہٰذا سیاسی طور پر یہ معاملہ حساس ہو جاتا ہے۔‘‘

ریسا کہتی ہیں کہ آج کل فلپائن میں امریکہ کی انسداد ِ دہشت گردی کی سرگرمیاں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہیں۔’’یہ سرگرمیاں فلپائن کی داخلی پالیسیوں اور اندازِ کار میں گڈ مڈ ہوتی جا رہی ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ مشکل صورتِ حال ہے ۔ کیا فلپائن کو ان سرگرمیوں سے فائدہ پہنچتا ہے؟ اس کا جواب ہاں میں ہے ۔ کیا امریکیوں کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے ؟ جو لوگ فلپائن میں امریکہ کی موجودگی کے حق میں ہے، ان کا جواب ہاں میں ہے کیوں کہ اس سے مستقبل میں دہشت گردی کےپھیلاؤ کا سد باب ہوتا ہے۔‘‘

قوم پرست سیاسی پارٹیوں اور محب وطن لوگوں نے امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے ان کی قومی خود مختاری میں دخل اندازی ہوتی ہے ۔ لیکن ریسا اور بانلاوئی متفق ہیں کہ امریکی فوجی موجود ہوں یا نہ ہوں، ابو سیاف اور اسی قسم کے دوسرے گروپ ، اپنے گہر ے نیٹ ورکس کی وجہ سے، بہ آسانی پھر سر اٹھا سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG