رسائی کے لنکس

پرواز کی تاخیر کی ویڈیو بنانے والا ملازمت سے برخواست


ادارے کا کہنا ہے کہ ارجمند حسین کی برخاستگی کا پی آئی اے کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔

رواں ماہ کے وسط میں قومی فضائی کمپنی کی ایک پرواز میں تاخیر پر دو قانون سازوں کے خلاف احتجاج اور انھیں جہاز سے اتارے جانے کی عکس بندی کرنے والے شخص کو ان کے ادارے نے نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔

ارجمند اظہر حسین ایک نجی کوریئر کمپنی 'جیریز' میں جنرل مینیجر کے عہدے پر کام کر رہے تھے جہاں سے انھیں برخاست کر دیا گیا۔

تاہم اس ادارے کا کہنا ہے کہ ارجمند حسین کی برخاستگی کا پی آئی اے کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔

ارجمند حسین کا چہرہ پاکستانی ناظرین کے لیے اجنبی نہیں کیونکہ وہ ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات میں کام کرتے رہے ہیں۔

ارجمند حسین نے مختلف نجی ٹی وی چینلز سے گفتگو میں اس برطرفی کو اسی معاملے سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اثر و رسوخ رکھنے والوں کے خلاف احتجاج بلند کرنے کی وجہ سے ہوا۔

16 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد کے پی آئی اے کی پرواز کی اڑان میں تقریباً اڑھائی گھنٹے کی تاخیر ہوئی اور اسی دوران حکمران مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار جہاز میں آئے تو وہاں موجود لوگوں نے ان پر یہ کہہ کر تنقید کی اور اُنھیں طیارے سے اترنے پر مجبور کیا۔

اسی اثناء میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمن ملک بھی جہاز میں سوار ہونے کے لیے آئے تو مسافروں نے انھیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس پر وہ جہاز پر سوار ہوئے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔

کہا جاتا ہے کہ اس سارے معاملے کی وڈیو بنانے اور اس احتجاج کرنے والے میں سب سے آگے مبینہ طور پر ارجمند حسین تھے۔

پی آئی اے نے بعد میں ایک بیان میں وضاحت کی تھی کہ پرواز میں تاخیر تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئی تھی جب کہ رحمن ملک کا بھی کہنا تھا کہ پرواز میں دیر کی وجہ وہ ہر گز نہیں تھے۔

XS
SM
MD
LG