رسائی کے لنکس

پی آئی اے ملازمین کا احتجاج، فائرنگ سے دو ہلاک


کراچی میں پی آئی اے کے ملازمین کی طرف سے مظاہرے کے دوران احتجاج کرنے والوں کی پولیس سے مڈھ بھیڑ ہوئی ہے۔ پولیس کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

پاکستان میں قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کے خلاف ملازمین نے منگل کو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے اور اس دوران ہونے والی جھڑپ میں دو افراد ہلاک اور متعدد کے زخمی ہو گئے۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہڑتال کی کال کے باجود منگل کی دوپہر تک پروازیں معمول کے مطابق چلتی رہی ہیں لیکن بعد میں شیڈول متاثر ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد سے ابو ظہبی، ریاض اور ڈیرہ غازی خان اور کراچی سے اسلام آباد کی پروازیں شیڈول کے مطابق اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئیں۔

پی آئی اے کے ملازمین نے کارگو ٹرمینل سے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی جانب مارچ شروع کیا تو سکیورٹی فورسز نے اُنھیں ائیر پورٹ سے پہلے ہی روک لیا۔ پولیس کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار کا بھی استعمال کیا گیا جب کہ فائرنگ سے ’پی آئی اے‘ کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔

پولیس اور رینجرز دونوں ہی کی طرف سے کہا گیا کہ اُنھوں نے فائرنگ نہیں کی۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ’ایسٹ کراچی‘ کامران فضل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ مظاہرین کے خلاف کسی طور طاقت کا استعمال نا کیا جائے بلکہ مذاکرات کر کے اُنھیں آگے بڑھنے سے روکا جائے۔

کراچی میں پیش آنے والے واقعے کے خبر ملتے ہیں ملتان اور پشاور میں بھی پی آئی اے کے ملازمین نے شدید احتجاج شروع کر دیا جب کہ منگل کی شام کو کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر فلائیٹ آپریشن مکمل طور پر بند ہو گیا۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ وہ پائلٹ اور ملازمین جو اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں وہ قومی ہیرو ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ ہڑتال سے قومی فضائی کمپنی کو 75 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو ادارے کے لیے ملازمین کو تنخواہیں دینا مشکل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملازمین اپنے ادارے کے مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے فلائیٹ آپریشن بند کرنے سے گریز کریں۔

پی آئی اے کے ملازمین کی یونین اور پائلٹوں کی تنظیم ’پالپا‘ نے منگل کو ملک بھر میں پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جب کہ حکومت نے پیر کی شام ادارے میں ’لازمی سروسز ایکٹ‘ نافذ کر دیا جس کے تحت تمام یونینز غیر موثر ہو گئی تھیں اور ملازمین کے ہڑتال کرنے کا حق معطل ہو گیا۔

حکومتی اعلانات میں کہا گیا تھا کہ ایکٹ کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی بھی ہڑتالی ملازم کو سزا کے طور پر نوکری سے بھی نکالا جا سکتا ہے۔

حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مسلسل خسارے کے باعث پی آئی اے کو ایک نجی کمپنی میں تبدیل کرے گی۔ اب جب کہ حکومت نے اس فیصلے پر عمل کا آغاز کیا ہے تو ملازمین کی طرف سے اس کے خلاف رد عمل سامنے آیا ہے۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لیتی۔

گزشتہ ماہ حکومت کی طرف سے پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کو پرائیویٹ سیکٹر میں فروخت کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں قومی اسلمبی نے ایک بل بھی منظور کیا۔

تاہم ملازمین کی طرف سے مزاحمت کے بعد حکومت نے نجکاری کے عمل کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG