رسائی کے لنکس

پی آئی اے کی پروازیں جزوی طور پر بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے زائرین سمیت مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی "پی آئی اے" کے آپریشنز کو پانچ روز تک بند رکھنے کے بعد ہفتہ کو دیر گئے جزوی طور پر بحال کر دیا گیا مگر اس کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ادارے کے ملازمین کی ہڑتال اب بھی جاری ہے۔

پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے زائرین سمیت مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے قومی فضائی کمپنی کے ترجمان دانیال گیلانی نے بتایا کہ پی آئی اے کی دو پروازیں سعودی عرب کے شہر جدہ سے عمرہ زائرین کو لے کر اتوار کو اسلام آباد واپس پہنچیں۔

’’بوئنگ 777 جہاز جو ہیں کل رات کو روانہ کیے گئے تھے جدہ کے لیے جو کہ وہاں سے آج دوپہر کو واپس آئے ہیں تقریباً سوا سات سو مسافروں کو لے کر۔ اب پروازیں بھی روانہ ہوں گی شام کو جدہ کے لیے بھی اور اسلام آباد سے لاہور کے لیے بھی پروازیں جائیں گی۔ اس کے بعد لاہور سے بھی جزوی طور پر آپریشن شروع ہو جائے گا۔‘‘

اگرچہ پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس وقت تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جب تک حکومت قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لے لیتی مگر دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملازمین کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ہڑتال ختم کریں۔

’’پی آئی اے انتظامیہ اور بہت سے ملازمین جو ہڑتال کا ساتھ نہیں دے رہے وہ تعاون کر رہے ہیں اور ان کی کوششوں کے ساتھ ہی یہ سارا آپریشن چل پا رہا ہے۔‘‘

جدہ کے علاوہ اتوار کو اسلام آباد سے گلگت اور ابو ظہبی کے لیے بھی دو پروازیں روانہ ہوئیں اور وہاں سے مسافروں کو لے کر واپس پہنچیں۔

2013 میں آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرتے وقت حکومت نے خسارے کا شکار سرکاری اداروں کی نجکاری کا وعدہ کیا تھا جن میں پی آئی اے بھی شامل ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ان اداروں کو چلانے کے لیے حکومت کو سالانہ لگ بھگ پانچ ارب ڈالر قومی خزانے سے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

جنوری میں جب حکومت نے پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کا عمل شروع کیا تو ملازمین نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

منگل کو حالات اس وقت شدید کشیدہ ہو گئے جب کراچی میں ملازمین کے مظاہرے کے دوران گولی لگنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد ملک بھر میں پی آئی اے کے آپریشنز بند کر دیے گئے۔

دریں اثناء کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال اور احتجاج جاری ہے جب کہ ان کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ملازمین کے غیر قانونی مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔

گزشتہ منگل سے مکمل ہڑتال کے باعث جہاں دو سو سے زائد پروزایں منسوخ ہوئیں وہیں پی آئی اے کو ڈھائی ارب روپے سے زائد کا نقصان بھی ہوچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG