رسائی کے لنکس

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے پی آئی اے کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ فضائی کمپنی کے آپریشن بحال ہونے کے بعد 18 پروازوں کی آمدورفت ہو چکی ہے۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی ’پی آئی اے کے آپریشنز کی جزوی بحالی منگل کو بھی جاری رہی جس کے ساتھ فضائی کمپنی نے اسلام آباد گلگت اور لاہور سے پروازیں شروع کر دیں۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے پی آئی اے کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ فضائی کمپنی کے آپریشن پیر کو بحال ہونے کے بعد سے اب تک 18 پروازوں کی آمدورفت ہو چکی ہے جن میں جدہ سے بوئنگ 777 کی اسلام آباد پہنچنے والی دو پروازیں بھی شامل ہیں جو سات سو سے زائد پاکستان عمرہ زائرین کو لے کر اسلام آباد پہنچیں۔

پی آئی کے ملازمین گزشتہ ہفتے سے قومی فضائی کمپنی کی مجوزہ نجی کاری کے خلاف ہڑتال کر رہے تھے جس کی وجہ سے اس دوران تین سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی پروازیں متاثر ہوئیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک پروازیں روانہ نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مسافر متاثر ہوئے۔

پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس وقت تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے جب تک حکومت پی آئی اے کی نج کاری کا فیصلے واپس نہیں لیتی ہے۔

حکومت نے گزشتہ ماہ پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجی کاری کا اعلان کیا تھا جس کی بعد پی آئی اے کے ملازمین کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جس کے بعد گزشتہ ہفتے پی آئی اے کے ملازمین نے مکمل ہڑتال شروع کر دی جس کی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت کی طرف سے مسافروں کو دوسری نجی فضائی کمپنیوں کے ذریعے سفر پر روانہ کرنے کے متبادل انتظامات کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

پی آئی اے کا شمار سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ان ادورں میں ہوتا ہے جن کو خسارے کا سامنا ہے جن کی نجی کاری کا وعدہ حکومت نے بین لاقوامی مالتاتی ادارے ائی ایم ایف سے کر رکھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قومی فضائی کمپنی کو اس وقت تین ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنے ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ پی آئی اے کو بہتر کاروباری انتظام کے تحت چلانے کے لیے اس کی نجی کاری ضروری ہے جبکہ اس کے ملازمین کا موقف ہے کہ اس سے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG