رسائی کے لنکس

تصویر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بچہ شاید سارا دن کھیلنے کے بعد تھک کر سو گیا ہے، اس کے جوتے اب بھی اس کے پیروں میں ہیں، لیکن یہ بچہ مردہ ہے، جس کی لاش سمندر کی لہریں اپنے ساتھ بہاتی ہوئی ساحل پر چھوڑ گئی ہیں۔

بحیرہ روم پار کرنے کی کوشش میں ڈوبنے والے ایک مردہ شامی بچے کی تصاویر، نے مغرب میں بہتر اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں مرنے والے ہزاروں مہاجرین کی المناک موت کے سانحے کو بیان کردیا ہے۔ انسانی جانوں کے المیہ کی خبر شاید ایک خبر ہی رہتی، لیکن ان غیر معمولی تصاویر نے لوگوں کے دلوں میں پناہ گزینوں کے بحران کےحوالے سے غم وغصہ پیدا کر دیا ہے۔

ترکی کی ڈوگن نیوز ایجنسی نے بدھ کو ترکی کے تفریحی ساحل بورڈن سے ملنے والی ایک چھوٹے بچے کی لاش کی تصاویر جاری کی تھیں، جس میں بچہ سرخ ٹی شرٹ اور نیلی نیکر پہنے ہوئے ہے اور ساحل کی ریت پر اوندھے منہ پڑا ہے۔

تصویر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہےکہ بچہ شاید سارا دن کھیلنے کے بعد تھک کر سو گیا ہے، اس کے جوتے اب بھی اس کے پیروں میں ہیں، لیکن یہ بچہ مردہ ہے، جس کی لاش سمندر کی لہریں اپنے ساتھ بہاتی ہوئی ساحل پر چھوڑ گئی ہیں۔

ترک میڈیا نے بچے کی شناخت ایلان کردی کے نام سے کی ہے، جس کی عمر تین برس تھی۔ یہ بچہ23 پناہ گزینوں میں سے ایک تھا، جنھوں نے شام میں داعش کے شدت پسندوں کی وجہ سے ترکی میں پناہ لے رکھی تھی اور یونان پہنچنے کے لیے سمندر میں موت کا سفر کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ایک کشتی میں چھ پناہ گزین سوار تھے، جنھوں نےترکی کے ساحل سے یونانی جزیرہ کوس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جو یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے بہترین مقام ہے۔

بچے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں میں اس کا پانچ سالہ بھائی گیلپ اور والدہ ریحان اور نو پناہ گزین بھی شامل ہیں جبکہ بچے کے والد عبداللہ اس حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔

حادثے کے بارے میں عبداللہ نے پریس ایسوسی ایشن سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہم نے سمندر میں صرف چار منٹ سفر کیا تھا کہ کپتان نے دیکھا کہ کشتی کو چلانے کے لیے لہریں بہت اونچی ہیں اس نے خوفزدہ ہوکر سمندر میں چھلانگ لگا دی اور فرار ہوگیا۔

"اس کے بعد میں نے کشتی کو چلانا شروع کیا لہریں بہت اونچی تھیں ہماری کشتی الٹ گئی میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو اپنے بازوں میں بھر لیا لیکن مجھے احساس ہوا کہ وہ سب مر چکے ہیں۔"

اخبار انڈی پینڈنٹ لکھتا ہے کہ ایلان کردی کے خاندان نے یونان کا سفر کرنے سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست دی تھی جو مسترد کر دی گئی تھی۔

کینیڈا میں مقیم بچے کی رشتے دار تیما کردی نے اوٹاوا سیٹزن اخبار کو بتایا کہ ایلان کے خاندان نے کینیڈا میں پناہ حاصل کرنے کے لیے نجی کفالت یافتہ پناہ گزین کی درخواست 'جی فائیو' دی تھی جو کہ جون میں مسترد کر دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ یہ خاندان جنگ زدہ سرحدی علاقہ کوبانی سے بھاگ کر ترکی آیا تھا، جہاں اقوام متحدہ کی طرف سے پناہ گزینوں میں ان کا اندارج نہیں کیا گیا اور ان کے پاس ترکی کا ویزا بھی نہیں تھا اور اسی مایوسی کی حالت میں وہ اسمگلروں کے ہاتھوں ترکی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

'' ہم انھیں اسپانسر کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور محلے اور رشتہ داروں نے مل کر بینک اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم جمع کی تھی لیکن اس کے باوجود ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں ناکام ہو گئے ۔''

ذرائع کا کہنا ہے کہ ادھر کینیڈا میں امیگریشن کے وزیر نے اپنی انتخابی مہم کو معطل کر کے ایلان کردی کے خاندان کی پناہ کی درخواست کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

امیگریشن کے وزیر کرس الیگزینڈر نے کہا کہ ''تمام کینیڈین عوام کی طرح مجھے بھی اس تصویر اور عراقی اور شامی مہاجرین کی حالت زار پر مبنی ان دوسری تمام تصاویر کو دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے جو داعش کے ظلم وستم سے بھاگ کر آ رہے ہیں ''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کینیڈا دنیا بھر میں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی آباد کاری قبول کرتا ہے اور حکومت 23,000 عراقی اور 11,300 شامی مہاجرین کو قبول کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔"

تاہم بیل فاسٹ ٹیلی گراف کے مطابق کینیڈین امیگریشن کے محکمے نے بعد میں ایک بیان میں اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عبداللہ کردی اور ان کے خاندان کی طرف سے کسی درخواست کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG