رسائی کے لنکس

عازمین حج سے رضاکارانہ طور پر نام واپس لینے کی اپیل


گزشتہ سال کے اندازوں کے مطابق ہر ایک گھنٹے میں 48 ہزار حجاج طواف کرتے تھے۔ لیکن، اس سال ایک گھنٹے میں صرف 22 ہزار حجاج طواف کر سکیں گے

پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے عازمین حج سے رضاکارانہ طور پر اپنے نام واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ اپیل میں کمزور، ضعیف مرد و خواتین اور بچوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سال حج پر روانہ نہ ہوں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، وزارت حج اس حوالے سے باقاعدہ ایک جامع حکمت عملی بھی ترتیب د ے رہی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ جو لوگ اس سے قبل حج کرچکے ہیں وہ بھی اس سال حج پر روانہ نہ ہوں کیوں کہ مکہ مکرمہ میں واقع مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجد نبوی کی توسیع کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام جاری ہے جس کے سبب اس سال سعودی حکومت کی جانب سے ہر ملک کے عازمین کی مجموعی تعداد میں 20فیصدکمی کردی گئی ہے۔

پہلے سے طے شدہ پاکستانی عازمین کی تعداد 1 لاکھ 79ہزار210تھی لیکن اس میں 20 فیصد کمی کے بعداب یہ تعداد1 لاکھ 43ہزار 368رہ گئی ہے۔

سعودی حکومت ہر سال حاجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداداور انہیں دی جانے والے سہولتوں کے پیش نظر حرم کعبہ اور مسجد نبوی میں وقتاً فوقتاً توسیع کرتی رہی ہے۔ اس سال طواف کی جگہ یعنی مطاف کو وسیع کرنے اور مسجد میں مزید 22لاکھ حاجیوں کی گنجائش پیدا کرنے کی غرض سے تین سالہ منصوبہ شروع کیا گیاہے جس کی وجہ سے موجودہ گنجائش نہایت کم ہوگئی ہے ۔اب اگر عازمین کی تعداد کم نہ کی گئی تو طواف کے وقت شدیدمشکلات ہوسکتی ہیں۔

وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے اندازوں کے مطابق ہر ایک گھنٹے میں 48 ہزار حجاج طواف کرتے تھے لیکن اس سال جگہ کی کمی کے باعث ایک گھنٹے میں صرف 22 ہزار حجاج ہی طواف کرسکیں گے جس سے یقینا مسائل بڑھیں گے۔

وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ جو عازمین رضاکارانہ طور پر اپنا نام واپس لیں گے انہیں اگلے سال یقینی طور پر اور بغیر کسی اضافی اخراجات کے حج پر بھیجا جائے گا۔

وزارت کی جانب سے عازمین کے ناموں کی قرعہ اندازی پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ رضاکارانہ طور پر نام واپس لینے والوں سے فوری رابطے کے لئے کہا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG