رسائی کے لنکس

امریکی تاریخ میں کئی خواتین نے ہوابازی کے شوق کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی اور ان خاص خواتین میں شمار ہوئیں جو شوق کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھنے کو تیار رہتی ہیں ۔ ان میں سے ایک ایمیلیا ائیر ہارٹ نے اسی شوق کے لئے اپنی جان تک گنوا دی ۔

پرندوں کی طرح اڑنےکی خواہش سے لے کر ہوائی جہاز کی ایجاد اور پہلی کمرشل فلائٹ کے اڑنے تک گزشتہ ایک صدی کے دوران انسان نے اپنی جستجو کے بل پر ناممکن نظر آنے والے کئی خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا ہے ۔ ترقی کے اس سفر میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔

امریکہ میں اس سال ہوابازی کے میدان میں خواتین کی باقاعدہ آمد کو ایک سو سال مکمل ہو گئے ہیں ۔امریکی تاریخ میں کئی خواتین نے ہوابازی کے شوق کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی اور ان خاص خواتین میں شمار ہوئیں جو شوق کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھنے کو تیار رہتی ہیں ۔ ان میں سے ایک ایمیلیا ائیر ہارٹ نے اسی شوق کے لئے اپنی جان تک گنوا دی ۔

ایک خاتون کا نام ہے جینفیر سٹرام ۔انہیں پائلٹ بننے کا شوق کس طرح ہوا؟ وہ کہتی ہیں کہ مجھے بچپن میں ایک کمرشل ائیر لائن میں اپنے بھائیوں سے ملنے بھیجا گیا ۔ میں بہت چھوٹی تھی اور میرا بھائی مجھے سے کچھ بڑا تھا ،جہاز کے عملے نے مجھے جہاز کے کاک پٹ میں آنے دیا ۔مجھے لگا کہ اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔وہ تمام بٹنز اور لائٹس ، لیور، اوپر سے نیچےکا منظر کاک پٹ سے دیکھنا، رات کو اوپر سے روشنیا ں دیکھنا، بس مجھ پرتو جادو ہو گیا۔تو میں نے بچپن میں ہی سوچ لیا تھا کہ مجھے بڑا ہو کر ائیر لائن پائلٹ بننا ہے ۔

ایک اور خاتون پائلٹ سنتھیا میننتی کس طرح ا س شعبے کی طرف آئیں۔ ان کا کہناہے کہ میری ایک دوست مجھے جہاز اڑاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئی تھی ۔شام کا وقت تھا، سورج ڈوب رہا تھا، اور ہم مغرب کی سمت پرواز کر رہے تھے ، میں بتا نہیں سکتی کہ کتنا خوبصورت منظر تھا۔ سورگ آگ کا گیند لگ رہاتھا ۔ اور ہم اس کی طرف پرواز کر رہے تھے ۔ زمین سیاہ و سفید کے درمیان ہر رنگ بدل رہی تھی ۔ سورج ڈوبنے کے بعد جو روشنیاں زمین پر نظر آرہی تھیں۔ وہ اس قدر خوبصورت منظر تھا جیسے آپ کوئی فلم دیکھ رہے ہوں ۔

کیلی گرافٹن اپنا ہوابازی کا اپناتجربہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ میں کہوں گی کہ رات کو جہاز اڑانا۔ اس سے خوبصورت چیز میں نے کوئی نہیں دیکھی ۔ گویاروشنیا ں آپ کے ارد گرد کی دنیا کو روشن کر دیتی ہیں ، آپ اکیلے ہیں ، خاموشی ہے ، اگر آپ رات کو جہاز اڑا رہے ہیں تو موسم بھی اچھا ہوتا ہے ۔ اس سے پر سکون کرنے والا کوئی اور تجربہ نہیں ہوتا ۔

مگر یہ اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔ سنتھیا میننتی کا کہناہے کہ سب سے پہلی چیز جو میرے انسٹرکٹر نے مجھے بتائی وہ یہ تھی کہ جہاز اڑانا کار چلانے سے مختلف ہے ۔ کیونکہ آپ کسی صورتحال میں کار کی طرح جہاز کو ایک طرف روک کر سوچ سمجھ نہیں سکتے ۔ آپ کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ آپ کو جہاز کے سسٹمز سے پہلے سوچنا ہوتا ہے ۔ یہی سب سے مشکل کام ہے ، گاڑی چلانے میں اگر آپ کوئی موڑ مس کر دیں ، یا لائن تبدیل کرنا چاہیں ، تو آپ کے پاس گاڑی کو روکنے اور کچھ سوچنے کا راستہ ہوتا ہے ، لیکن جہاز اڑانے میں آپ کو اپنا ارادہ اسی وقت تبدیل کرنا پڑ سکتا جب آپ فضا میں ہی موجود ہیں ۔

کیلی گرافٹن کہتی ہیں کہ ہوا بازی کا شوق خطروں سے خالی نہیں ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ پائلٹ کی مہارت ہر روز کسی نئی مشکل کا سامنا کرنے سے ہی ثابت ہوتی ہے ، اور پائلٹ کی مہارت ثابت کرتی ہے کہ تربیت کتنی اچھی ہے ۔ اگر آپ کی تربیت اچھی ہو تو آپ مختلف صورتحال کا بخوبی سامنا کر سکتے ہیں ۔ لیکن آپ کی مہارت کا بار بار امتحان ہوتا ہے

دوسرے کئی پیشوں کی طرح خواتین کو ہوابازی میں بھی اپنا آپ منوانے میں کچھ مشکلات اور مختلف رویوں کا سامنا کرنا پڑا ۔

کیلی گرافٹن کہتی ہیں کہ یہ یقیناً ایک مشکل کام ہے ، آپ ایک ایسے پیشے میں ہیں جو مردوں کا سمجھا جاتا ہے ، اور یقینا میں نے پچھلے تمام برسوں میں تھوڑی بہت مخالفت بھی دیکھی ہے اپنے مرد ساتھیوں کی طرف سے ، لیکن مجموعی طور پر ماحول اب تبدیل ہو رہا ہے۔ مجھے بہت سی 12 سے 14سال کی لڑکیاں اب ہوابازی میں دلچسپی لیتی نظر آتی ہیں ۔ جن کو ہمیشہ سے جہاز اڑانے کا شوق تھا ، اور جو اسے اپنا پیشہ بنانے کو تیار ہیں ۔، میرے تجربات زیادہ برے نہیں رہے لیکن مجھے ایسے مردوں سے واسطہ پڑا ہے جن کا کہنا تھا کہ ارے کیا تم واقعی جہازاڑا لو گی ؟ مجھے نہیں معلوم یہ تجسس ہے یا مخالفانہ رویہ کہ کوئی خاتون کیسے ایک مشاق پائلٹ بن سکتی ہے ؟

جب کہ سینتھیا میٹینی کہتی ہیں کہ میں نے زیادہ تر مردوں کے انداز میں احترام دیکھا ہے کہ کوئی عورت ایسی کوشش کر رہی ہے ۔ کیونکہ پائلٹ لائسنس لینے کے لئے صرف محنت ہی نہیں سچی لگن بھی چاہئے ہوتی ہے ۔ مجھے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا ۔ خواتین پائلٹس ہر روز کام کر رہی ہیں ، ان کے ساتھ مساوی برتاؤ کیا جاتا ہے ۔

جینیفر سٹارم کہتی ہیں کہ 2011ء ہوابازی کے میدان میں خواتین کے لئے ایک یادگار سال ہے کیونکہ امریکہ میں پہلی خاتون کو پائلٹ لائسنس ملے اس سال ایک صدی کا عرصہ مکمل ہو ا ہے ۔ ان کا نام ہیرئیٹ کوئیمبی تھا ۔ انہوں نے اپنا پائلٹ لائسنس 1911ء میں حاصل کیا ۔ 2010ء میں ہم نے دنیا کی پہلی خاتون کو جن کا تعلق فرانس سے تھا، پائلٹ لائسنس ملنے کے سو سال منائے تھے ۔ میرے خیال میں ہر کسی نے ایمیلیا ائیر ہارٹ کا نام تو سن رکھا ہے ۔ جن کی مضبوط شخصیت نے امریکی عوام کو مسحور کر دیا تھا۔ ایمیلیا ائیر ہارٹ کی طرح اور بھی کئی خواتین پائلٹس نے ایروبیٹکس میں نام پیدا کیا ۔ پیڈی ویگ سٹاف نے امریکہ کی قومی چیمپئین شپ دو بار جیتی اوروہ بھی مردوں سے مقابلہ کر کے ۔ امریکہ میں کئی خلاباز خواتین ہیں جیسے سیلی رائیڈ اور کیتھی سولاون جنہوں نے اور بھی کئی خواتین کو اس شعبے کی طرف آنے کے لئے متاثر کیا ۔

ہوابازی کی تنظیمیں امریکہ بھر میں اس سال چھوٹے ائیرپورٹس پر ایسی تقاریب منعقد کر رہی ہیں ، جن کے ذریعے ہر عمر کے افراد کو ہوابازی کا تجربہ کروایا جارہا ہے تاکہ ان میں ہوا بازی کا شوق پروان چڑھایا جائے ۔

جینیفر سٹارم امریکہ میں ائیر کرافٹ اونرز اینڈ پائلٹ ایسو سی ایشن کی ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پرائیوٹ پائلٹ اور فلائٹ انسٹرکٹر بھی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کے لئے 40 گھنٹے اور سپورٹس پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کے لئے 20گھنٹے کسی فلائنگ انسٹرکٹر کے ساتھ جہاز اڑانا ضروری ہے ۔ لائسنس کی نوعیت کے لحاظ سے اخراجات کم سے کم سات سے آٹھ ہزار ڈالر ہو سکتے ہیں ۔ کمرشل پائلٹ لائسنس کا کورس چار سالہ مدت کا ہوتا ہے اور امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں کروایا جاتا ہے ۔

ہوابازی کی تربیت لینے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ۔آپ کی عمر 16 سال ہے یا 60 ۔۔اگر آپ پائلٹ لائسنس کے لئے درکار جسمانی ٹیسٹ پاس کر لیتے ہیں تو پرائیوٹ پائلٹ لائسنس حاصل کر سکتے ہیں ، جس کی مدت کبھی ختم نہیں ہوتی ۔لیکن سنتھیا میننتی کہتی ہیں کہ پختہ عمر میں ہوابازی سیکھنے والے غیر ضروری خطرے مول نہیں لیتے ۔

ان کا کہناہے کہ کم عمری میں آپ کو کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا ۔ لیکن جب آپ کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو آپ غیر ضروری خطرات سے بچنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ آپ کو جان کی اہمیت کا احساس ہو تا ہے ۔ آپ کا کوئی خاندان ہے تو آپ غیر ضروری خطرے مول نہیں لینا چاہیں گے ۔ آپ سفر پر نکلنے سے پہلے ہر چیز اچھی طرح چیک کریں گے ۔ کوئی خطرہ اٹھانے سے ہچکچائیں گے ۔

خواتین پائلٹس کی تعداد امریکہ میں پائلٹس کی کل تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔ یعنی صرف چھ فیصد۔ رجحان بڑھ رہا ہے لیکن اس کی رفتار کم ہے ۔

ہوابازی کی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت کی سست روی اور بے روزگاری کے اس دور میں ہوابازی کا میدان روزگار کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔

امریکہ کی پائلٹ کمیونٹی کو سب سے بڑا دھکا گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد لگا تھا ، جس کے بعد سے ان کی امریکہ میں جہاز اڑانے کی آزادی محدود ہو گئی ہے ۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ حالات اب تبدیل ہو رہے ہیں۔ امریکہ کی پائلٹ برادری کو گلہ ہے کہ ان کے بارے میں دولت مند ہونےکا تاثر حکومت کی جانب سے ان پر نئے نئے ٹیکسز لگانے کا باعث بنتا ہے ، جس سے ان کے لئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ آُ پ چاہے عورت ہوں یا مرد ، ہوابازی کی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں توایک ویب سائٹ لیٹس گو فلائینگ ڈاٹ کام پر لاگ آن کر سکتے ہیں اور پسند کر سکتے ہیں کوئی سا بھی فلائینگ سکول جو آپ کی جیب اور گھر کے قریب ترین ہو ۔

XS
SM
MD
LG