رسائی کے لنکس

کراچی وہ شہر ہے جہاں تقریباً سونے اور چاندی جتنا مہنگا 'چلغوزہ' ٹھیلوں پر بکتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ پہلے یہ’ مونگ پھلی کی طرح‘ کھایا جاتا تھا۔ مگر اب سونے اور چاندی کی طرح ’برتا‘ جاتا ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ ہو رہا ہے۔ ذیل میں ملاحظہ کیجئے:

شریف آباد۔۔کراچی کے متوسط طبقے کے لوگوں کی آبادی ہے۔ یہاں گزشتہ ہفتے ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ شام کے سائے ابھی لمبے ہوئے ہی تھے کہ ایک گلی میں اچانک کچھ لوگوں کا شور بلند ہوا۔

اس شور میں، ایک موٹر سائیکل کو تیزی سے دوڑانے، بریک چرچرانے اور انجن کے 'گھوں گھوں' کرنے کی آواز بھی شامل تھی، جو غالباً ایکسی لیٹر کو یکدم گھومانے سے پیدا ہوتی ہے۔

واقعہ آناًفاناً ہوا۔ یہاں تک کہ سب لوگ حیران پریشان سے ہوگئے۔ شام معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، گلی میں لوگوں کا آنا جانا بھی عام دنوں جیسا ہی تھا اور روٹین کے مطابق ہی گلی کے ایک کونے پر ڈرائی فروٹ بیجنے والے’گل خان‘ کا ٹھیلا بھی مونگ پھلی، گجک، پستہ، تل والے لڈو، گٹر کی پٹی، انجیر، اخروٹ، چلغوزے اور بادام سمیت مختلف سردی کے میووں سے لدا ہوا تھا کہ اچانک دو موٹر سائیکل سوار گلی کے دوسرے کونے سے داخل ہوئے اور بہت تیزی سے ٹھیلے کی طرف بڑھنے لگے۔

متعدد لوگوں نے موٹرسائیکل کی غیر معمولی تیز رفتار کو نوٹس کیا، کچھ اندیکھے خدشوں کے ساتھ سب کے کان کھڑے ہوئے۔ لیکن، جتنی دیر میں سب معاملے کی تہہ تک پہنچتے دونوں نوجوان ٹھیلے کے قریب پہنچے، موٹرسائیکل کی رفتار کچھ لمحوں کے لئے دھیمی ہوئی، ڈرائیور کے عقب میں بیٹھے نوجوان نے پلک جھپکتے ہی ٹھیلے پر رکھے ایک وزنی تھیلے پر جھپٹا مارا اور دونوں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ تنگ گلیوں کی بھول بھلیاں میں غائب ہوگئے اور۔۔ گل خان ہکا بکا رہ گیا۔

گل خان کچھ دور تک ان کے پیچھے بھاگا مگر پھر واپسی ہی غنیمت جانی اور ٹھیلے پر واپس آگیا۔ اس دوران، لوگوں کی اچھی خاصی بھیڑ ٹھیلے کے اردگرد جمع ہوگئی تھی سب کو یہی تشویش تھی کہ آخر اس تھیلے میں تھا کیا جو اس واردات کا سبب بنا۔۔۔لوگوں کے پوچھنے پر گل خان نے بتایا کہ سیلوفین کے ٹرانسپیرنٹ تھیلے میں تقریباً پانچ چھ کلو چلغوزے تھے۔

”چلغوزے۔۔۔“ تمام لوگ تقریباً بلند آواز میں چیخے۔ پھر یکدم ہی مسکرانے لگے۔

شہر قائد میں عموماً اس طرح کی وارداتیں قیمتی موبائل یا پھر پرس چھننے کے لئے ہوتی ہیں۔ لیکن، یہ پہلا موقع تھا جب بالکل اسی انداز میں کوئی 'چلغوزے' چھین کر بھاگا تھا۔

قیمتی موبائل فون سے مہنگے ۔۔۔چلغوزے
پانچ یا چھ کلو چلغوزے کی مالیت ایک عام قیمتی موبائل سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔شہر میں اس وقت چلغوزے 1400روپے سے 1800روپے کلو ہیں۔ اس لحاظ سے پانچ یا چھ کلو چلغوزوں کی مالیت آٹھ ہزار روپے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں عام آدمی چلغوزے کے مزے صرف ’خیالی دنیا‘ میں ہی اٹھا سکتا ہے۔

چلغوزوں کے ٹھیلوں پر سیکورٹی گارڈز
کم آمدنی میں ناقابل تلافی نقصان کا احساس کرتے ہوئے گل خان نے 'وی او اے' کو بتایا 'میرا تو بہت بڑا نقصان ہوگیا۔۔۔کئی مہینوں کا منافع نکل گیا۔ خدا بھلا کرے ان کا اب ہم کیا بولیں۔۔۔ہم بد دعا بھی نہیں دے سکتا۔ہم کو تو لگتا ہے اب چلغوزے کے ٹھیلوں پر بھی سیکورٹی گارڈ رکھنا پڑے گا۔۔۔گاڑی کی طرح چلغوزے کا بھی انشورنس کرانا پڑے گا۔۔۔بہت براوقت آگیا بھائی۔۔اللہ ہمیں ہدایت ’دیوے‘۔

چلغوزے بیچنا۔۔’بڑے جگر‘ والوں کا کام
اپنی نوعیت کے اس ’منفرد سانحے‘ کے بعد شریف آباد کے ایک دیرینہ رہائشی فاروق احمد نے وائس آف امریکہ کے نمائندے سے تبادلہ خیال میں بتایا 'ٹھیلوں پر اتنے مہنگے چلغوزے بیچنا ہی آج کل 'بڑا جگرا' رکھنے والوں کا کام ہے۔ آج دس بیس روپے کے چلغوزے ان چھوٹی چھوٹی کاغذ کی تھیلوں میں آتے ہیں جن میں کبھی ڈاکٹر گولیاں یا دوائیاں رکھ کردیا کرتے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دس روپے میں دس بارہ چلغوے آتے ہیں۔۔اور اگر چھلے ہوئے لیں تو شاید اس سے بھی کم آئیں۔'

سرد ی کی راتوں کا ایک پرانا مگر دلفریب منظر
فاروق احمد نے اپنے بچپن کی یادوں کو کریدتے ہوئے مزید بتایا 'ہمارے والد سردی شروع ہوتے ہی برنی بھر کر چلغوزے لے آتے تھے۔ گھر کے سارے لوگ کہیں بھی آتے جاتے تو جیبوں میں چلغوزے بھرلیتے اور پیدل چلتے چلتے انہیں چھیلتے جاتے اور کھاتے جاتے۔ برفیلی راتوں میں لحاف اور گدوں میں بیٹھ کر سارا سارا گھرانا چلغووں اور دیگر ڈرائی فروٹ کا مزا لیتا تھا۔جاڑے کی لمبی لمبی راتوں میں بچے لحافوں میں گھس گھس کر دادا، دادی سے کہانیاں سنتے۔ انہیں زبردستی کہانیوں سے بہلابہلاکر ڈرائی فروٹ کھلائے جاتے تھے۔۔ مگر اب وہ دن کہاں ۔۔اب تو اس انداز میں مونگ پھلی بھی کم ہی لوگ کھاتے ہیں۔'

چلغوزے مہنگے ہونے کا سبب
کراچی میں چلغوزوں کے سب سے زیادہ بیوپاری ایمپریس مارکیٹ، واٹر پمپ اور جوڑیا بازار میں نظر آتے ہیں، جبکہ شہر کی درجنوں مارکیٹس اس کے علاوہ ہیں جہاں ڈرائی فروخت من مانی قیمتوں پر فروخت ہوتا ہے۔ جیسا علاقہ ایسے دام۔

ایمپریس مارکیٹ میں چلغوزے فروخت کرنے والے ایک دکاندار شکیل خان کا کہنا ہے 'چلغوزے اور دیگر ڈرائی فروٹ پیچھے سے ہی اتنا مہنگا آتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ قیمت بڑھانا ان کا اکیلے کے ’بس‘ کا نہیں بلکہ چلغوزوں کے باغات کے مالکان، ایجنٹ، سب ایجنٹس اور دیگر آڑتی اس مہنگی کے ذمے دار ہیں۔'

ایک اور ڈرائی فروٹ مرچنٹ نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے وی او اے کو بتایا'پاکستان میں چلغوزے کے زیادہ تر درخت خشک اور پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ بعض علاقے اتنے دور افتادہ ہیں کہ پہنچنے میں بھی کئی کئی دن اور بہت سا روپیہ لگ جاتا ہے۔ پھر وہاں سے چلغوزے لیکر کراچی تک لانا اور درمیان میں سب کو پیسے کھلانا۔۔یہ سب اتنا مہنگا اور رسکی ہے کہ قیمت بڑھ ہی جاتی ہے۔'

تحقیق اور اعدادشمار
چلغوزوں کے حوالے سے ریسرچ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ چلغوزے کے درخت شمالی علاقہ جات، بلوچستان، چلاس، گلگت، پارا چنار، وانا گستوئی، ژوب اور استور کی وادیوں میں پائے جاتے ہیں۔

چلغوزہ درحقیقت ان درختوں کا بیج ہے اور خشک میوے کے طور پر دنیا بھر میں کھایا جاتا ہے۔ اس کے درخت سطح سمندر سے دو، دو ہزار فٹ کی بلندی پر اگتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے علاقے ژوب کی تحصیل شیرانی میں تو یہ درخت تین ہزار چار سو ستاسی میٹر بلندی پر پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک پہنچنے کے لئے تقریباً 10گھنٹے کا دشوار گزار اور خطرناک راستہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔

تحصیل شیرانی دنیا کے سب سے بڑے، گھنے اور خالص چلغوزے کے جنگلات کا ’آبائی وطن‘ ہے۔یہ جنگلات 25ہزار ہیکٹر سے بھی زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ چلغوزے کے درخت کی اوسط عمر 100 سال بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کی طرف سے محتاط اندازہ لگایا گیا ہے کہ صرف ایک درخت سے کم از کم دس ہزار روپے تک کا چلغوزہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ مارکیٹ میں پہنچتے پہنچتے ہزاروں روپے من تک پہنچ جاتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG