رسائی کے لنکس

کوئٹہ کو محفوظ بنانے کے لیے ’سیف سٹی منصوبہ‘

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ نے کام شروع کر دیا ہے اور حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے مرکز شہر کوئٹہ میں پولیس اور قانون نافذ کر نے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے شہر میںنگرانی کے لیے مزید 1400 کیمرے نصب کیے جائیں گے اور پولیس کے اہلکاروں کی نفری میں بھی اضافہ کیا جائے۔

سینیئر پولیس سپریٹینڈنٹ (ایس ایس پی) آپریشنز ندیم حُسین نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ فیصلہ حالیہ چند ماہ کے دوران پولیس، لیویز اور فرنٹئیر کور کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تخریب کاری کا زیادہ نشانہ بننے والے علاقوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے جب کہ شہر کے مصروف کاروباری مراکز میں اس وقت 26 کیمرے نصب ہیں۔

"بلوچستان حکومت نے اس سال سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے خطیر رقم رکھی ہے اور اس میں تقر یبآ 1400 کے قریب کیمرے ہیں جو کہ ہمارے داخلی و خارجی راستوں اور شہر کے مختلف ایسے مقامات جو اہم ہیں (جرائم کے لحاظ سے سیکورٹی کے لحاظ سے) وہاں ہم نے نشاندہی کر کے کیمرے لگانے کی تجویز دی ہے ۔۔۔ ایک سنٹرل سسٹم ہو گا جہاں ہر وقت نگرانی کی جاتی رہے گی۔"

ندیم حُسین کا کہنا تھا کہ ان کیمروں کی مدد سے گاڑیوں اور لوگوں کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ میں پولیس کے تقر یباً تین درجن اہلکار دہشت گرد حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس کے بعد پولیس اہلکاروں کو تحفظ کے لیے مزید تربیت بھی دی جا رہی ہے۔

"دہشت گرد صرف خبر بنانا چاہتا ہے اور وہ سامنے آ کے وار نہیں کرتا اور پیچھے سے وار کر تا ہے تو اُس چیز کو بچانے کے لیے ہم نفری کو آگاہ کر رہے ہیں اور اُس میں بہتر ی بھی لا رہے ہیں۔"

مرکزی شہر کوئٹہ میں ٹریفک کی صورتحال بھی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے جس میں بہتری کے لیے ندیم حسین کا کہنا تھا کہ ٹریفک اسگنلز بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شہر میں حساس مقامات، سفارتی تنصیبات اور اہم شخصیات کے علاوہ دوروں پر آنے والی شخصیات کے لیے بھی باقاعدہ سے پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے اور اس طرح اضافی نفری کی ضرورت پڑتی ہے لہذا اس ضمن میں بھی صوبائی حکومت کو سکیورٹی ڈویژن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں بھی سیف سٹی پراجیکٹ نے کام شروع کر دیا ہے اور حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG