رسائی کے لنکس

محصور پناہ گزیں، بچاؤ کا منصوبہ تشکیل دیا جا رہا ہے: کیمرون


جبل سنجار

جبل سنجار

برطانوی وزیر اعظم نے کچھ برطانوی قانون سازون کی طرف سے عراق میں فوجی مداخلت کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے

برطانوی وزیر اعظم، ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ محصور ہزاروں یزیدیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو، جنھوں نے دولت الاسلامیہ کی دھمکیوں کے نتیجے میں شمالی عراق میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر پناہ لے رکھی ہے، اُن کے بچاؤ کے لیے ایک بین الاقوامی منصوبہ تشکیل دیا جارہا ہے۔


مسٹر کیمرون، جو پرتگال میں تعطیلات پر تھے، بدھ کو لندن واپس پہنچے۔ وہ عراق کے جبل سنجار کے معاملے پر درپیش انسانی ہمدردی کے بحران کے سلسلے میں اپنے مشیروں سے ملاقات کریں گے۔

اُنھوں نے کچھ برطانوی قانون سازون کی طرف سے عراق میں فوجی مداخلت کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ بچاؤ کے کام کے حوالے سے برطانیہ اپنا کردار ادا کرے گا، جب کہ وہ پہلے ہی امریکہ کے ساتھ مل کر محصور پناہ گزینوں کے لیے خوراک اور پانی کی رسد طیاروں سے گِرا رہا ہے، جن میں سے کچھ لوگ شدید گرمی کے باعث فوت ہوچکے ہیں۔

امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلق ایک اہم مشیر، بین رہوڈز نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما کچھ دِنوں کے اندر جبل سنجار پر محصور افراد کے بچاؤ کے لیے امریکی فوجی روانہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ رہوڈز نے کہا ہے کہ مسٹر اوباما کئی ایک آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں طیاروں کے ذریعے بچاؤ کا کام عمل میں لانا اور محصورین کو پہاڑی سے نیچے اتارنے کے لیے ایک محفوظ راہداری قائم کرنے کی کوشش کرنا بھی شامل ہے۔

مسٹر اوباما نے عہد کر رکھا ہے کہ موجودہ بحران میں امریکی فوج کو کسی طور زمین پر تعینات نہیں کیا جائے گا، جس کے انخلا کے اُنھوں نے 2011ء میں خود احکامات دیے تھے۔


تاہم، امریکی رہنما نے گذشتہ ہفتے سنجار کے قریب پیش قدمی کرنے والے دولت الاسلامیہ کے لڑاکوں کے خلاف فضائی کارروائی کی اجازت دی تھی، جس کے باعث کرد جنگجوؤں کو وقت میسر آئے گا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر موجود 20000 سے زائد محصورین کے بچاؤ کا کام سرانجام دیں۔

نقل مکانی کرنے والے عراقیوں کی اعانت کی راہ تلاش کرنے کے مقصد سے، مسٹر اوباما نے شمالی عراق میں مزید 130 فوجی مشیر تعینات کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔

XS
SM
MD
LG