رسائی کے لنکس

افغانستان سے امریکیوں کو لانے والا طیارہ دبئی پہنچ گیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایرانی حکام نے طیارے کو پہلے واپس مڑ جانے کا کہا لیکن جب پائلٹ نے بتایا کہ جہاز میں اتنا ایندھن نہیں کہ وہ واپس افغانستان جا سکے تو اسے ایران کے بندر عباس ہوائی اڈے پر اترنے دیا گیا۔

افغانستان سے تقریباً ایک سو امریکیوں کو لے کر پرواز کرنے والا خصوصی طیارہ ایران میں وقتی پڑاؤ ے کے بعد دبئی پہنچ گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق بگرام کے فضائی اڈے سے اڑتے وقت طیارے نے اپنے فضائی سفر سے متعلق معلومات جاری نہیں کی تھیں۔

ایرانی حکام نے جب اس طیارے کو اپنی فضائی حدود میں دیکھا تو وہ اس جہاز کی شناخت کرنے سے قاصر رہے کیونکہ شیڈول کے مطابق اس جہاز کو بہت پہلے یہاں سے گزر جانا چاہیے تھا۔

ایرانی حکام نے طیارے کو پہلے واپس مڑ جانے کا کہا لیکن جب پائلٹ نے بتایا کہ جہاز میں اتنا ایندھن نہیں کہ وہ واپس افغانستان جا سکے تو اسے ایران کے بندر عباس ہوائی اڈے پر اترنے دیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق طیارہ دبئی میں اتر چکا ہے اور اس طیارے کو ایرانی لڑاکا طیاروں کی طرف سے کسی طرح مزاحمت کا سامنا کرنے سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔

ترجمان میری ہارف نے کہا کہ "ہم ان تمام فریقین کی کوششوں کو سراہتے ہیں جنہوں نے طیارے کے مسافروں کو بحفاظت ان کی منزل تک پہنچے میں مدد دی۔"

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی دہائیوں سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔

امریکہ نے 1979ء میں تہران میں انقلاب کے دوران امریکی سفارتخانے کے لوگوں کو یرغمال بنائے جانے پر 1980 میں ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

52 امریکیوں کو تہران میں انقلاب میں شامل لوگوں نے تقریباً 444 روز تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔

XS
SM
MD
LG