رسائی کے لنکس

ایسا لگتا ہے گویا کراچی کے شہریوں کو بارش کا موسم راس نہیں آتا۔ چند گھنٹوں کی بارش کے بعد کئی، ہفتوں تک گردش میں رہنے والے مسائل شہر قائد کو کسی بد روح کی طرح گھیر لیتے ہیں۔۔اور۔۔۔ ’رحمت‘۔۔’زحمت‘ بن جاتی ہے

صوبہٴپنجاب کی گھنگھور گھٹاوٴں۔۔۔امنڈتے بادلوں ۔۔۔مہکی ہواؤں۔۔۔کے منظر ۔۔پہلے ہولے ہولے ۔۔ پھر یکسر موٹے موٹے بارش کے قطروں۔۔۔جن کے زمین پر پڑنے کے ساتھ ہی مٹی سے سوندھی سوندھی خوشبو پھوٹنے لگتی ہے۔۔۔اور اسے محسوس کرتے ہی دور کھیتوں میں چکر لگاتی کوئل کوک اٹھتی ہے ۔اور۔۔پپیہا مدھر راگ چھیڑ دیتا ہے۔۔ ۔۔۔پھر دھواں دار اور موسلادھار بارش ہونے لگتی ہے۔۔۔جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔۔۔

کراچی والے مئی اور جون کے’موسمی تندور‘ میں ایسے منظر ٹی وی اسکرین پر دیکھ عش عش کر اٹھتے ہیں۔۔انہیں رشک آنے لگتا ہے ۔۔بارش کے ایسے حسین موسم انہیں تڑپا دیتے ہیں مگر چاہ کر بھی وہ کچھ نہیں کر پاتے۔۔۔ساری امیدیں جولائی اور اگست کے مون سون سے بندھ جاتی ہیں۔۔۔اور قسمت سے جب یہاں بارش کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موسم آتا ہے تو شہر کی بد قسمتی کا مرثیہ آڑے آجاتا ہے۔

ہر بار۔۔۔ہر بار ۔۔۔قدرت تو اس شہر پر مہربان ہوجاتی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے گویا کراچی کے شہریوں کو بارش کا موسم راس نہیں آتا۔چند گھنٹوں کی بارش کے بعد کئی ہفتوں تک گردش میں رہنے والے مسائل شہر قائد کو کسی بدروح کی طرح گھیر لیتے ہیں۔۔اور۔۔۔ ’رحمت‘۔۔’زحمت‘ بن جاتی ہے۔

اس بار بھی یہی ہوا۔مہینوں کے انتظار اور ڈھیرساری دعاوٴں کے بعد گزشتہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ڈیڑھ گھنٹے میں صرف 39ملی میٹر بارش ہوئی۔ لیکن پھر اس کے بعد جو عتاب آیا وہ اب تک جاری و ساری ہے۔

متعدد علاقوں خاص کر بفرزون کے کچھ سیکٹرز میں اب تک پانی کیچڑ کی شکل اختیار کئے آنے والوں کے لئے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ علاقہ مکین فرحان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’یہاں ہفتے کی صبح سے ہی لائٹ غائب ہے۔ 48گھنٹوں سے زائد ہوگئے مگر ابھی تک صفائی کا عملہ بھی نہیں پہنچا ۔۔ہماری تو عید ہی خراب ہوگئی۔۔نہ کہیں آنے کے۔۔ نہ جانے کے‘۔

سخی حسن چورنگی پر بھی کیچڑ کے ڈھیر پیر کی صبح تک جوں کے توں موجود تھے۔ یہاں دورویہ سڑکوں کے عین درمیان سے ہوکر ایک گہرا نالہ گزرتا ہے۔ لیکن ہفتوں اور مہینوں سے اس کی صفائی نہیں ہوئی تھی اس پر بارش کا پانی آیا تو نالہ اپنے اوپر پڑنے والا ’اضافی دباوٴ‘ برداشت نہ کرسکا اور جو کچھ غلاظت اس میں سمائی تھی سب سڑک پرا ٓگئی۔ کیچڑ کی انتہائی موٹی موٹی تہیں اور ان سے پھوٹتے تعفن نے علاقہ مکینوں کا سانس لینا محال کردیا۔

کم و بیش پورے شہر کی یہی صورتحال ہے۔ مکھی، مچھروں اور کروڑوں کی تعداد میں اچانک نکل آنے والے حشرات الارض نے وہ مسائل جنم دیئے کہ ڈیڑھ گھنٹے کی بارش کا عذاب شاید ڈیڑھ مہینے تک بھگتنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی والوں کو پنجاب کی بارشوں کے منظر سہانے تو بہت لگتے ہیں۔۔مگر ان کی حقیقت اپنے شہر میں دیکھ کر وہ لرز اٹھتے ہیں۔

تباہی کی اصل جڑ
ایک عام مشاہدے کے مطابق شہر میں بارش سے ہونے والی تباہی کی اصل جڑ پلاسٹک کے وہ بیگز ہیں جو بے وزن معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن، ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ نہ گلتے ہیں اور نہ سڑتے ہیں، کئی مہینوں بعد بھی زمین کی تہہ سے باہر نکالو تو اپنی اصل شکل میں رہتے ہیں۔ ان سے ماحول تو خراب ہوتا ہی ہے، یہ گھر کی نالیوں اور شہر بھر کے نالوں میں پھنس کر نکاسی آب کو بلاک کردیتے ہیں۔ اسی سبب ان پر ماضی میں کئی بار پابندی بھی لگ چکی ہے۔

کراچی کی شہری حکومت اور صوبائی حکومتِ سندھ نے مارچ 2006ء میں باقاعدہ ایک آرڈیننس کے تحت 15 مارچ2007ء سے پولی تھین تھیلوں اور تھیلیوں کی تیاری، ان کے استعمال اور ان کی خرید و فروخت پر پرپابندی عائد کرتے ہوئے اس کی خلاف ورزی پرچھ ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزاوٴں کا اعلان کیا تھا۔

اس فیصلے کے نفاذ کے لیے چھاپوں کا سلسلہ بھی چلا۔ لیکن، چھاپہ مار اہلکار صرف پولی تھین تھیلوں کی ضبطی تک ہی محدود رہے اور آج تک کسی ایک شخص کو بھی اس کے استعمال پر کوئی سزا نہیں مل سکی۔

سابق نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی نے بھی 28مارچ 2013ء کو صوبے بھر میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ لیکن، ان پر بھی کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا۔

شہرکی سابق ناظمہ نسرین جلیل کا کہنا ہے ’پلاسٹک بیگز پر ہماری شہری حکومت نے اپنے دور میں ہی پابندی عائد کردی تھی کیوں کہ یہ ماحولیاتی آلودگی، نکاسی آب کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے اور بجلی کے نظام میں خلل ڈالنے کا ذریعہ ہیں۔ شہر کے ہر حصے میں، کچرا کنڈیوں پر، سڑکوں کے کنارے، باغوں، گلیوں، محلوں حتیٰ کہ میدانوں میں بھی آپ کو سب سے زیادہ پلاسٹک کی تھیلیاں ہی بکھری نظر آئیں گی۔ تمام چھوٹی بڑی نالیوں اور نالوں میں بھی یہی پھنسی ہوئی دکھائی دیں گی۔ نکاسی آب میں رکاوٹ کا سب سے بڑا سبب یہی پلاسٹک بیگز ہیں۔بارش کا پانی انہی نہ سڑنے اور کبھی نہ گلنے والی تھیلیوں کے سبب نالوں کے راستے نہ نکل کر باہر آجاتا ہے، کیچڑ جمع ہوجاتی ہے جس سے تعفن پھوٹتا اورانگنت بیماریاں جنم لیتی ہیں۔‘

تھیلیاں کہاں سے آتی ہیں؟
اہم سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں تھیلیاں آتی کہاں سے ہیں؟ تو اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ شہر میں ہر شخص ،ہر چیز انہی تھیلیوں میں خرید رہا ہے۔ دودھ، گوشت، سبزی، دوائی، گھی، تیل، پانی، کپڑے، کھانے، جوتے۔۔۔غرض کہ ہر قسم کا سامان خواہ وہ رقیق، ٹھوس یا گیس کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔۔انہی تھیلیوں میں لایا اور لے جایا جا رہا ہے۔

’پلاسٹک بیگز مینو فیکچر ڈیلرز ایسوسی ایشن‘ اور ’آل کراچی پولی تھین بیگز مینو فیکچررز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن‘ نے وی او اے کے استفسار پر بتایا کہ ’اس وقت، صرف کراچی میں تقریباً 40000 افراد تھیلیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ شہر میں سنہ 1986اور 87ء سے یہ کام چل رہا ہے۔ اب تو اسے ’کاٹیج انڈسٹری‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اتنے سالوں بعد ہر آدمی کو ’شاپر’ کے استعمال کی عادت پڑگئی ہے ۔۔اگر کسی دکاندار کے پاس شاپر نہ ہو تو گاہک بغیر کچھ خریدے آگے بڑھ جاتا ہے ۔ایسے میں کوئی پابندی کارگر کس طرح رہ سکتی ہے۔‘

پولی تھین کی تھیلیوں کا متبادل کاغذ، کپڑے یا جوٹ سے بنے تھیلے ہیں۔ لیکن، قیمت میں مہنگے ہونے اور ان کے ذریعے ’گھی، تیل اور سالن‘ جیسی چیزوں کے لئے ان کا استعمال نہیں ہوسکتا۔ یوں، لوگ ’کچھ عرصے کی سخت پابندی‘کے بعد دوبارہ ان کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ۔۔لہذا، جس وقت تک قانون مزید سخت نہیں ہوجاتا یہ مسئلے برقرار رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG