رسائی کے لنکس

جنوبی کیلیفورنیا کے پتھیالوجی شعبہ سے وابستہ محققین کے مطابق بالوں کو مختلف کثافتوں میں توڑنا بالوں کی مرمت کے ردعمل کو فعال کرتا ہے ۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر سر کے بالوں کو ایک خاص حد تک نوچا جائے تو وہاں پہلے سے زیادہ گھنے بال اگ آتے ہیں۔

جنوبی کیلیفورنیا کے پتھیالوجی شعبہ سے وابستہ محققین کے مطابق بالوں کو مختلف کثافتوں میں توڑنا بالوں کی مرمت کے ردعمل کو فعال کرتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر چیانگ منگ چوؤنگ نے کہا کہ بالوں کا توڑنا اصل میں بالوں کے غدود کو متحرک کرنے کے قابل تھا اور کبھی کبھار واپس اگنے والے بال اصل بالوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھے جس سے بالوں کے حجم میں اضافہ ہوا۔

تحقیق کاروں نے کہا کہ مشاہدے سے پیچیدہ طریقہ کار کی وضاحت ہوئی کہ کیسے سر کے وسیع حصے پر بالوں کے جھڑنے کے نقصان کا اندازا لگانے کے لیے ہر ایک بال کا غدود سینسر کے طور پر کام کرتا ہے۔

ہر بال سگنل بھجتا ہے جو اجتماعی حیاتیاتی سرکٹ میں جمع ہوتا ہے جو زخمی جگہ کو بالوں سے بھرنے کی طاقت کا تعین کرتا ہے۔

بالوں کی تخلیق نو کی حیاتیات جاننے کے لیے ماہرین نے اپنے مشاہدے میں دیکھا کہ نئے بال اگانے کی تحریک کے لیے فی مربع ملی میٹر 10 سے زائد بال نوچنے کی ضرورت تھی ورنہ دوسری صورت میں گنجا پن باقی تھا۔

محققین کو پتہ چلا کہ ایک خاص حد سے نیچے بالوں کے غدود کے کیمیائی اشارے تخلیق نو کے نظام کے آغاز کے لیے کافی نہیں تھے اور جیسے ہی یہ ایک حد تک پہنچ گیا بالوں کی تخلیق نو کا نظام فعال ہو گیا اس نظام کو اکثر 'کورم سینسنگ' کہا جاتا ہے جس میں کچھ پر اثر انداز ہونے پر پورا نظام ردعمل ظاہر کرتا ہے جیسا کہ چیونٹی اور شہد کی مکھی ایک ادارے کی صورت میں مل کر کام کرتی ہیں ۔

سائنسی جریدے 'جرنل سیل' میں شائع ہونے والے مطالعے میں محقق نے چوہوں کی پشت سے دائرے کی شکل میں بالوں کو اتارا اور حیاتیاتی ردعمل کا مطالعہ کیا۔

تجربے کے دوران محققین کی ٹیم نے جلد کے رویوں کا تجزیہ کیا اور دیکھا کہ بالوں کے غدود نے کونسے کیمیائی اشارے ہمسایہ خلیات کو بھیجے اور کس طرح مختلف اوقات میں مختلف بالوں کی مرمت کا نظام فعال ہوا۔

اس مشاہدے کے ساتھ پروفیسر چوؤنگ کی ٹیم نے دیکھا کہ جب 3 ملی میٹر کے ایک قطر سے 200 بال نوچے گئے تو وہاں لگ بھگ 450 بال واپس اگ آئے جو ناصرف نوچے جانے والے بالوں کی جگہ پر اگے تھے بلکہ ارد گرد بھی اگ آئے تھے۔

لیکن جب انھوں نے 5 ملی میٹر کے ایک قطر سے 200 بال توڑے تو اس بار 1300 بال دوبارہ اگ آئے جس سے ظاہر ہوا کہ بالوں کی تخلیق نو کثافت پر منحصر تھی۔

محققین نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بالوں کو توڑنا اس حد سے نیچے تھا تو وہاں بالوں کی مرمت کے لیے کوئی حیاتیاتی جواب نہیں تھا۔

اس تجزیہ کے ساتھ سائنسدانوں نے ظاہر کیا کہ بالوں کو توڑنا اصل میں بالوں کے غدود میں سوزش پروٹین جاری کرنے کا اشارہ ہے جس سے مدافعتی خلیات فعال ہو کر نوچے جانے والے بالوں کے غدود اور ہمسایہ بالوں کے غدود کو کیمیائی اشارے بھیجتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ یہ پھر سے بال اگنے کا وقت ہے۔

محقق جیانگ منگ چوؤنگ نے کہا کہ "یہ ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک بنیادی تحقیق انتہائی اہم دریافت کی طرف لے جاتی ہے۔"

بقول پروفیسر چوؤنگ بالوں کے گرنے کا ایک مرض 'ایلا پیشیا اریاٹا' کی علامات اور وجوہات مختلف ہیں یہ عام طور پر مردوں اور خواتین میں گنجے پن کی اہم وجہ ہے۔

تاہم ہماری دریافت گنجے پن کی اس بیماری کے طریقہ علاج اور ادویات کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے جس کے اثرات بال توڑنے کے اثرات سے ملتے جلتے ہوں۔

XS
SM
MD
LG