رسائی کے لنکس

حکومت نے نگران وزیراعظم کے لیے تین نام تجویز کر دیئے


عبدالحفیظ شیخ

عبدالحفیظ شیخ

سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار کھوسو کے نام نگران وزیراعظم کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے نگران وزیراعظم کے لیے تین نام تجویز کیے ہیں جن میں سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا نام بھی شامل ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار کھوسو کے نام بھی نگران وزیراعظم کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے بھی نگران وزیراعظم کے لیے تین نام تجویز کیے تھے جن میں رسول بخش پلیجو، جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد، جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان کے نام شامل تھے۔

چوہدری نثار نے ایک خط کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تجویز کردہ ناموں سے وزیراعظم کو آگاہ کیا تھا۔

منتخب اسمبلی 16 مارچ کو اپنی مدت پوری کر رہی ہے آئین کے تحت قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے تین روز کے اندر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے کے بعد نگران وزیراعظم کی تقرری کی جائے گی۔

لیکن اگر ان دونوں میں اتفاق نا ہو سکا تو حکومت اور اپوزیشن کے چار، چار اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو متفقہ ناموں کی سفارش کرے گی اور اگر کمیٹی کسی نتیجے پر نا پہنچ سکی تو الیکشن کمیشن حتمی فیصلہ کر کے نگران وزیراعظم کو نام تجویز کرے گا۔

دریں اثناء عدالت عظمیٰ نے انتخابی اصلاحات کے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات کا انعقاد اہم ترین معاملہ ہے اور اس میں تاخیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

نئے کاغذات نامزدگی پر حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اتفاق نہ ہونے کے باعث اور ان کی صدر مملکت کی طرف سے حتمی منظوری نہ ملنے کے باوجود کمیشن نے انھیں چھپائی کے بھیج دیا تھا۔

تین رکنی بینچ کی سربراہی کرنے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے اور نئے کاغذات نامزدگی کی چھپائی کا کام وہ آئین میں دیے گئے اختیارات کے تحت کررہا ہے۔
XS
SM
MD
LG