رسائی کے لنکس

صدر کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں


وزیراعظم عدالت میں پیشی کے لئے آرہے ہیں

وزیراعظم عدالت میں پیشی کے لئے آرہے ہیں

اعتزاز احسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ توہین عدالت پر اظہار وجوہ نوٹس کے سلسلے میں وزیر اعظم کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن اب بات صدر مملکت کو آئین کی شق 248 کے تحت حاصل استثنیٰ کے حتمی تعین پر چلی گئی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین صدر مملکت کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے اس لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا گیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ جمعرات کو جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ کے رو برو پیش ہوئے جو اُن کے خلاف توہین عدالت کے معاملے پر اظہار وجوہ نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔

مسٹر گیلانی کا کہنا تھا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی ’این آر او‘ کی منسوخی کے بعد عدالتی احکامات کے باوجود صدر زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط نا لکھنے کے فیصلے کا مقصد عدالت کی توہین نہیں بلکہ آئین کی پاسداری تھی۔

’’مجھے یقین کامل ہے کہ اُنھیں (مسٹر زرداری کو) ملک کے اندر اور باہر بھی مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ آئین میں صدر کو مکمل استثنیٰ فراہم کیا گیا ہے، اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔‘‘

وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا کہ جب تک مسٹر زرداری منصب صدارت پر فائز ہیں ان کے خلاف سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا۔

اُنھوں نے صدر زرداری کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں قائم مقدمات کی دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت بھی طلب کی، لیکن عدالت عظمیٰ نے انھیں دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی اور وزیراعظم کو آئندہ حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ میں اس غیر معمولی پیشی کے بعد وزیراعظم گیلانی سخت سکیورٹی حصار اور اپنے حامیوں کے ہجوم میں میڈیا سے بات چیت کیے بغیر ہی واپس چلے گے۔

اعتزاز احسن

اعتزاز احسن

البتہ اعتزاز احسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ توہین عدالت پر اظہار وجوہ نوٹس کے سلسلے میں وزیر اعظم کا دفاع کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن اب بات صدر مملکت کو آئین کی شق 248 کے تحت حاصل استثنیٰ کے حتمی تعین پر چلی گئی ہے۔

’’میں 248 پر بھی بات کروں گا کیوں کہ عدالت نے اس بارے میں مجھے مجبور کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ دوسرا تھا پر عدالت کے حکم کے تحت سرِ تسلیم خم ہے اور میں 248 پر بھی عدالت کو انشااللہ مطمئین کروں گا، ان کی تسلی کراؤں گا کہ اس معاملے میں مکمل استثنیٰ ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہونا ’’چھوٹی بات نہیں‘‘ اور اس پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ’’سپریم کورٹ اور قانون کے وقار کو تسلیم کرتے ہیں‘‘۔

سپریم کورٹ نے پیر کو وزیر اعظم گیلانی کو این آر او سے متعلق دسمبر 2009ء میں سنائے گئے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نا کرنے کی پاداش میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنھیں ذاتی طور پر طلب کیا تھا۔

ادھر جمعرات کوعدالت عظمٰی کی عمارت اور اُس طرف جانے والے راستوں کی کڑی نگرانی کے لیے اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے جب کہ دارالحکومت کے اس علاقے میں ہیلی کاپٹر بھی فضائی نگرانی پر مامور رہے۔

مسٹر گیلانی توہین عدالت کے مقدمے میں بذات خود سپریم کورٹ میں پیش ہونے دوسرے پاکستانی وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ اس سے قبل 1997ء میں اُس وقت ملک کے وزیر اعظم نواز شریف عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG