رسائی کے لنکس

وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی جانب سے سوئس حکام کو لکھا گیا خط واپس لے لیا جائے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے منگل کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے روبرو پیش ہو کر بتایا کہ انھوں نے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کی جانب سے سوئس حکام کو لکھا گیا خط واپس لے لیا جائے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب اس مسئلے کو حل ہو جانا چاہیئے اور وہ اس ضمن میں عدالت سے تعاون کے خواہش مند ہیں تاکہ معاملے کو سلجھایا جا سکے۔

اُنھوں نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سے سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے قبول کرلیا گیا۔

عدالت نے 25 ستمبر تک خط تیار کرنے کی مہلت دیتے ہوئے حکومت کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ خط ارسال کرنے سے قبل اس کا مسودہ عدالت عظمٰی کو دکھایا جائے اور سوئس حکام کی جانب سے اسے وصول کیے جانے کی تصدیق کے بارے میں عدالت کو 2 اکتوبر تک آگاہ کیا جائے۔

جسٹس کھوسہ نےاُمید ظاہر کی کہ حکومت اس تمام معاملے کو جلد سے جلد نمٹا دے گی۔

سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی گئی کہ آئندہ ماہ کی دو تاریخ کو روس کے صدر ولادیمر پوٹن پاکستان کا دورہ کریں گے اس لیے سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق زیادہ وقت دیا جائے۔ فاروق نائیک نے خط کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے 28 ستمبر تک کی مہلت مانگی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر اس معاملے کو لٹکایا گیا تو شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔

وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے عدالتی کارروائی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم نے عدالت میں اپنے مقدمے میں ایک راستہ پیدا کیا ہے جو عدالت کے اطمینان کے مطابق ہے۔ آئندہ مراحل بھی عدالت کی اطمینان کے مطابق ہوں گے۔ یہ معاملہ حل ہو گا اور بے یقینی کی صورت حال جو گردش کر رہی ہے ختم ہو گی۔‘‘

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے اداروں کے درمیان تصادم کے تاثر کی نفی ہو گی۔

وزیراعظم جب مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ پہنچے تو ان سے اظہار یکجہتی کے لیے وفاقی وزراء اور اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی ان کے ہمراہ عدالت آئے۔

وزیراعظم دوسری بار این آر او عمل درآمد کیس میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں اس سے قبل 27 اگست کو عدالت عظمٰی نے سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے وزیراعظم پرویز اشرف کو 18 ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر وزیراعظم کی آمد کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

ملک قیوم نے سابق فوجی صدر پرویز مشروف کے دور میں متعارف کرائے گئے قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں زیر التوا مقدمات بند کرنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھا تھا۔ لیکن عدالت عظمیٰ نے 2009ء میں این آر اور کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے تحت ختم کیے گئے تمام افراد بشمول صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی بحالی کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم پرویز اشرف اور ان کے پیش رو یوسف رضا گیلانی کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی بحالی کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

لیکن سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے سوئس حکام کو خط لکھنے سے مسلسل انکار پر توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر سپریم کورٹ انھیں گھر بجھوا چکی ہے۔

قانونی ماہرین نے حکومت کی طرف سے سوئس حکام کو خط لکھنے کی یقین دہانی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے حکومت اور عدلیہ کے مابین کشیدگی کم ہوگی مگر اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ خط اگر لکھ بھی دیا گیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ سوئس حکام اس پر عمل کریں گے۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صدر کو آئین نے استثنا دے رکھا ہے اور جب تک ملک کے اندر یہ قانون موجود ہے کسی بھی دوسرے ملک بشمول سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں کو صدر پاکستان کے خلاف مقدمات کھولنے پر آمادہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG