رسائی کے لنکس

عراق: نومنتخب پارلیمان سے جلد حکومت سازی کا مطالبہ


فائل

فائل

تجزیہ کاروں کے مطابق عراق کے معتبر ترین شیعہ رہنما کی جانب سے اس مطالبے کے بعد نوری المالکی کے لیے مزید اقتدار میں رہنا مشکل ہوگیا ہے جو اس وقت بطور نگراں وزیرِاعظم برسرِ اقتدار ہیں۔

عراق کے اہم ترین شیعہ رہنما نے سیاست دانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات طے کرکے آئندہ چار روز کے اندر ملک میں نئی حکومت کے قیام پر متفق ہوجائیں۔

گرینڈ آیت اللہ علی سیستانی نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نومنتخب پارلیمان کے منگل کو ہونے والے افتتاحی اجلاس سے قبل ملک کے نئے وزیرِاعظم، پارلیمان کے اسپیکر اور صدر کے عہدوں کے لیے افراد کا چناؤ کرلیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عراق کے معتبر ترین شیعہ رہنما کی جانب سے اس مطالبے کے بعد نوری المالکی کے لیے مزید اقتدار میں رہنا مشکل ہوگیا ہے جو اپریل میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد سے بطور نگراں وزیرِاعظم برسرِ اقتدار ہیں۔

آیت اللہ سیستانی کے اس بیان کا مطلب ہے کہ یا تو نوری المالکی کو خود کو تیسری بار عراق کا وزیرِاعظم منتخب کرانے کے لیے فوری طور پر ارکانِ پارلیمان کی درکار اکثریت کی حمایت حاصل کرنا ہوگی ورنہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

آیت اللہ سیستانی کے اس بیان سے قبل انتخابات میں کامیاب ہونے والی شیعہ جماعتوں - بشمول نوری المالکی کی سربراہی میں قائم سیاسی اتحاد 'اسٹیٹ آف لا' - کے ایک مشترکہ اجلاس میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے متفقہ امیدوار لانے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

نوری المالکی کے سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں لیکن وہ ایوان میں حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک عراق میں جلد از جلد ایک ایسی نئی اور قومی حکومت کے قیام پر زور دے رہے ہیں جو ملک کے تمام گروہوں کی نمائندگی کرے اور 'الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق والشام (داعش)' کے سنی جنگجووں کی پیش قدمی کا مقابلہ کرسکے۔

'داعش' کے جنگجو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک کے سنی اکثریتی شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کرچکے ہیں اور دارالحکومت بغداد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہیں۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ عراق پر برسرِ اقتدار شیعہ حکومت سنی اقلیت کے تحفظات اور مسائل کو نظر انداز کرتی رہی ہے جس کے باعث ملک میں سنی جنگجووں کو سر اٹھانے کا موقع ملا ہے۔

لیکن آٹھ سال تک وزیرِاعظم رہنے کے بعد چار سال کی تیسری مدت کے لیے وزیرِ اعظم بننے کے خواہش مند نوری المالکی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی سنی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے سے اب بھی انکار کر رہے ہیں۔

عراقی آئین کے تحت ملک کے نو منتخب پارلیمان کا افتتاحی اجلاس منگل سے قبل ہونا ضروری ہے اور آیت اللہ سیستانی کے مطالبے کے بعد سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے اختلافات دور کرنے کےلیے صرف چار روز کا وقت ہے۔

صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں تشکیل پانے والے نئے سیاسی نظام کے تحت ملک کا وزیرِاعظم شیعہ ہوتا ہے جب کہ پارلیمان کا اسپیکر سنی اقلیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ملک کے صدر کو برائے نام اختیارات حاصل ہیں اور یہ عہدوں کرد شخصیت کے لیے مخصوص ہے۔

ملک کی بیشتر سنی جماعتیں نوری المالکی کو دوبارہ وزیرِاعظم کی حیثیت سے قبول کرنے کا امکان پہلے ہی مسترد کرچکی ہیں جب کہ عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے کے صدر بھی نوری المالکی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG