رسائی کے لنکس

واضح رہے کہ پاکستانی فوج پہلے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس تشکیل دینے کا اعلان کر چکی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے ملک میں کام کرنے والے چین کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق پیر کو اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ملک میں موجود چینی افرادی قوت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد کئی چینی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کام شروع کیا ہے اور چین سے انجنیئرز، تکنیکی ماہرین اور تعمیرات کے ماہرین کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی کوتاہی نا برتی جائے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج پہلے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس تشکیل دینے کا اعلان کر چکی ہے۔

رواں سال چین کے صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کی سکیورٹی کے لیے 10,000 نفری پر مشتمل ایک سپیشل فورس تشکیل دی جائے گی۔

پاکستان کا موقف ہے کہ گہرے سمندر تک رسائی کے لیے گوادر بندرگاہ ’اسٹرایٹیجک‘ اہمیت کی حامل ہے۔

رواں سال اپریل میں چینی صدر شی جنپنگ کے دورہ پاکستان کے موقع پر دونوں ممالک نے اقتصادی راہداری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت چین کے صوبے سنکیانگ کو سڑکوں، ریلوے لائنوں، پاور پلانٹس، پائپ لائنوں، صنعتی زونز اور فائبر آپٹک کیبل کے جال کے ذریعے گوادر بندرگاہ سے جوڑا جائے گا۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ گوادر میں بندرگاہ کو مزید وسعت دینے کے لیے وہاں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے پیر کو ہونے والے اجلاس میں بھی کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی راہداری علاقے کی ’قسمت بدلنے‘ کا منصوبہ ثابت ہو گی اور اس سے متعلق منصوبوں کو طے شدہ وقت پر مکمل کیا جائے گا۔

پاکستانی رہنماؤں کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ کچھ عناصر اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو ہر قیمت پر تعمیر کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG