رسائی کے لنکس

وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ اسی بات کی غمازی کرتا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف قازقستان کے صدر نور سلطان نظربایوف کی دعوت پر دو روزہ دورے پر منگل کو دارالحکومت آستانہ پہنچے۔ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔

آستانہ آمد پر قازقستان کے وزیر خارجہ ایرلان ادریسوف نے ہوائی اڈے پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ اسی بات کی غمازی کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے رکن ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف دارالحکومت آستانہ میں قازقستان کے صدر نور سلطان نظربایوف اور وزیراعظم کریم مسیموف سے ملاقاتیں کریں گے جس میں دوطرفہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستان 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے پر قازقستان کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والے پہلے ملکوں میں شامل تھا۔ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال قازقستان چین اور روس کے پڑوس میں واقع ہے۔

XS
SM
MD
LG