رسائی کے لنکس

افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں: اشرف غنی


افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پیر کی شب وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے بڈھ بیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کی مذمت کی۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کسی طور استعمال نہیں ہونے دے گا۔

صدر اشرف غنی نے پیر کی شب وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے بڈھ بیر میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کی مذمت کی۔

اس سے قبل پیر کی صبح وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پشاور میں فضائیہ کے اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد ملنے والے اُن شواہد کا جائزہ لیا گیا، جو افغانستان کو فراہم کیے جائیں گے۔

اس اہم اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ ندیم ذکی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا اعلیٰ سطحی اجلاس

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا اعلیٰ سطحی اجلاس

وفاقی وزرائے میں سے وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی وہاں موجود تھے۔

کئی گھٹنوں تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے سلامتی کی مجموعی صورت حال کے علاوہ افغانستان کی حکومت کو شواہد کی فراہمی اور افغاستان سے ملنے والی اپنی سرحد کی نگرانی کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔

تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ افغانستان کو کب اور کس سطح پر شواہد فراہم کیے جائیں گے۔

گزشتہ جمعہ کو پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر 13 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور وہ تمام کے تمام سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارے گئے تھے۔

اس حملے میں 29 دیگر افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت پاکستانی فضائیہ کے اہلکاروں کی تھی۔

حملے کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا تھا کہ اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور وہیں سے شدت پسندوں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔

میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران دہشت گردوں کی افغانستان میں اپنے معاونین سے ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ بڈھ بیر فضائی اڈے پر حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار کی گئی۔

تاہم افغانستان نے اس حملے میں اپنی سرزمین استعمال ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان نے کبھی اپنی سرزمین دوسری ریاستوں کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دی ہے نہ کبھی دے گا۔

XS
SM
MD
LG