رسائی کے لنکس

اجلاس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں وزیراعظم نوازشریف سے سات اہم سوالات پوچھنے کا ارادہ رکھتی ہیں جبکہ ان جماعتوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جواب نہ ملنے کی صورت میں وزیراعظم کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

کراچی ۔۔۔پاکستان کے ایوان زیریں ’قومی اسمبلی ‘کا پیر کی شام پانچ بجے ایک اہم اجلاس ہونےجارہاہے ۔ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف بھی شرکت کریں گے اور پانامالیکس کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں گے۔ سیاسی تجزیہ نگار اور مبصرین اجلاس کو خاصا ہنگامہ خیز ہونے کی قیاس آرائی کررہے ہیں ۔

اجلاس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں وزیراعظم نوازشریف سے سات اہم سوالات پوچھنے کا ارادہ رکھتی ہیں جبکہ ان جماعتوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جواب نہ ملنے کی صورت میں وزیراعظم کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

حزب اختلاف اور حزب اقتدار ، دونوں جانب سے پیر کو ہونے والے اجلاس کے لئے اپنی اپنی حکمت عملیاں ترتیب دیئے جانے کی خبریں مقامی میڈیا کی شہ سرخیاں ہیں۔

حکومت کی جانب سے ترتیب دی جانے والی حکمت عملی کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم ایوان میں پالیسی بیان دیں گے اور اس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے پوچھے جانے والے ضمنی سوالات کا جواب دیں گے ۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نےبھی اتوار کی شام اگلے دن ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس اور خاص کر حکومتی پالیسی سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا۔

دوسری جانب اپوزیشن نے اس قسم کے بیانات جاری کئے ہیں جن کے مطابق وزیراعظم کی ایوان میں آمد پر نہ تو کوئی حکومت مخالف نعرے بازی ہوگی اور نہ ہی کوئی احتجاج کیا جائے گا۔ دو بڑی مخالف جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے مل کر احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم دونوں جماعتوں کاکہنا ہے کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن کے سوالات کے جوابات لازمی دینا ہوں گے۔

وزیراعظم کی تقریر کے بعد قائد حزب اختلاف خورشید علی قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے ، اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی بھی خطاب کرسکیں گے ۔

پرویز رشید کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم پیر کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے الزامات کا تفصیلی جواب دیں گےجس کے بعد پاناما لیکس کی صورت میں عائد الزامات کی گرد بیٹھ جائے گی۔

ادھر مقامی میڈیا خاص کر ایکسرپس نیوز اور جیو ٹی وی کی رپورٹس میںذرائع کے حوالے سے متفقہ ٹی اوآرز کے لئے حکومت مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کرسکتی ہے یاپھر اسپیکر کو بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ متفقہ ٹی اوآرز کے لئے حکومتی و اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں۔

ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہاجارہا ہے کہ وزیراعظم اجلاس میں اپنے بچوں کے جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا اعلان بھی کرسکتے ہیں ۔

رپورٹس کے مطابق حکومت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش بھی کرسکتی ہے ۔

اپوزیشن کے حوالے سے کہاجارہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن پانامہ لیکس کے معاملے پرسب سے پہلے وزیراعظم کے خاندان کے احتساب کا مطالبہ بھی کرسکتی ہے ۔

توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی خصوصی طور پر اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے اوراپنی آف شور کمپنی سے متعلق وضاحت پیش کریں گے ۔

XS
SM
MD
LG