رسائی کے لنکس

ملکی سیاست میں مسلم لیگ فنکشنل کا کردار اہم ہوگیا


مسلم لیگ فنکشنل

مسلم لیگ فنکشنل

رواں ہفتے ہی نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الٰہی بھی پیر پگارا سے بلمشافہ ملاقات کرچکے ہیں۔ سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار ان ملاقاتوں کا اہمیت دے رہے ہیں

ملکی سیاست، خاص کر سندھ کے سیاسی پس منظر میں، مسلم لیگ فنکشنل اور اُس کے رہنما پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کا کردار یکسر اہم ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدرآصف علی زرداری، نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الٰہی، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور میر ظفر اللہ خان جمالی سمیت متعدد رہنما اب تک پیر صاحب پگارا سے ملاقات کرچکے ہیں جبکہ مسلسل ٹیلی فونک رابطے بھی کئے جارہے ہیں۔

اس سے قبل رواں ہفتے ہی نائب وزیراعظم چوہدری پرویز الٰہی بھی پیر پگارا سے بلمشافہ ملاقات کرچکے ہیں۔سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار ان ملاقاتوں کا اہمیت دے رہے ہیں۔

مسلم لیگ فنکشنل کی اہمیت کا اندازہ کرانے کے لئے سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ صدر زرداری نے فنکشنل لیگ سے تعلق رکھنے والے مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بناکر ایک پنتھ دو کاج والا کام کیا ہے۔ ایک جانب مسلم فنکشنل جو یکم اکتوبر کو سندھ اسمبلی سے پاس ہونے والے نئے بلدیاتی نظام پر حکومت سے بری طرح خائف تھی اور نئے بلدیاتی نظام کے خلاف اندورن سندھ مسلسل احتجاج اور ہڑتال کررہی تھی اسے خود بخود بریک لگ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب پنجاب میں پھیلی فنکشنل لیگ کی شاخیں بھی حکومت کے قریب آگئی ہیں ۔

تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس قربت کا سیاسی فائدہ یہ نکلے گا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں فنکشنل کے ساتھ ملکر مسلم لیگ نون کا مقابلہ کرسکے گی۔ ادھر بلدیاتی نظام کے بل پر ن لیگ سندھ میں پی پی کے خلاف جو محاذ پکا کررہی تھی ، اس پر بھی اب روک لگ جائے گی۔

مبصرین مخدوم احمد محمود کی تعینا تی کو صد ر پاکستان آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت بھی قرار دے رہے ہیں۔ان کی جانب سے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں آئندہ حکومت بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ق کی ہی ہو۔ذرائع کے مطابق مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجا ب بنانے میں سابق وزیرا عظم یوسف رضا گیلانی کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔

اس سے قبل وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے فنکشنل لیگ کے سربراہ سے ملاقات میں پیر پگارا کو آئندہ عام انتخابات کیلئے سیاسی نظام کو بہتر بنانے کے کئے معاونت کی پیشکش بھی کی تھی جس کا پیر پگارا نے خیر مقدم کیاتھا۔

یہ بات بھی زیر نظر رہے کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے سب سے زیادہ اعتراضات پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کو ہی ہیں اوراس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ کے ممبران متعدد بار سندھ اسمبلی میں شدید احتجاج ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

فنکشنل لیگ حیدر آباد میں حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جلسہ بھی کر چکی ہے ۔ جلسے میں فنکشنل لیگ کے رہنماؤ ں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو ’سندھ دشمن ‘قرار دیتے ہوئے واضح پیغام دیا تھا کہ حکومت چند لوگوں کو خوش رکھنے کی خاطر سندھ کی تقسیم کے فارمولے سے باز رہے ۔
XS
SM
MD
LG