رسائی کے لنکس

لاہور میں مسلم لیگ ن کا جلسہ، صدر زرداری سے استعفے کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سندھ میں سیلاب آیا تو وہ غیر ملکی دورے پر چلے گئے ، پنجاب میں ڈینگی کی وبا آئی تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں: شہباز شریف کا الزام

مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا ’تو پاکستان کو تحریر اسکوائر بنا دیں گے‘، جِس کے جواب میں، پیپلزپارٹی کے راہنما بابر اعوان نے لاہور کے جلسہ کو مسلم لیگ ن کا ’نقطہ زوال‘ قرار دیتے ہوئے شہباز شریف کے صدر زرداری کے خلاف خطاب کو ’غیر آئینی‘ قرار دیا ۔

دوسری جانب، پیپلزپارٹی نے حالات سے نمٹنے کیلئے اتحادیوں سے رابطے بھی تیز کر دیئے ہیں۔ ایم کیو ایم کےوفد سے ملاقات کے بعد رحمن ملک کاکہنا تھا کہ ن لیگ کی ریلی میں سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق الزام کی تحقیقات ہوں گی۔

شہباز شریف کا صدر زرداری سے استعفیٰ کا مطالبہ

شہباز شریف نے صدر زرداری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سیلاب آیا تو وہ غیر ملکی دورے پر چلے گئے ، پنجاب میں ڈینگی کی وبا آئی تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں ۔شہباز شریف نے پی آئی اے ، ریلوے اور اسٹیل مل کی تباہی کا ذمہ دار بھی صدر زرداری کو ٹھہرایا ۔ اُن کے بقول، آصف علی زرداری نے ایبٹ آباد کے 2 مئی کے امریکی آپریشن کی تعریف میں مضمون لکھا ، وہ ایسے شخص کو کیسے صدر مان سکتے ہیں؟

شہباز شریف نے الزام لگایا کہ آصف علی زرداری نے اپنے دورِ اقتدار میں عوام کو ’اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا‘ ۔

انہوں نے کہا کہ ڈینگی سے300اموات پر افسوس ہے، لیکن ہزاروں لوگوں کو بچایا بھی گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ صدر زرداری سے ملک کو نجات دلائی جائے اور ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے جس کا علامہ اقبال اور قائد اعظم نے خواب دیکھا تھا ۔ شہباز شریف نے تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ پنجاب میں’ گھس بیٹھیوں‘ کے جلسہ عام کو کامیاب بنانے کیلئے مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی کے کارکنان کی مدد لی جا رہی ہے ، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے اصل جیالے ایسا نہیں کریں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ آج لاہور میں ’عوام کے سمندر نے‘ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف’ آخری معرکے‘ کیلئے تیار ہیں ۔

اس موقع پر شہباز شریف نے گزشتہ دور حکومت میں اپنے ترقیاتی کاموں کا ذکر بھی کیا جن میں گوادر پورٹ کی تعمیر ، یلو کیب اسکیم اور موٹر وے کی تعمیر شامل تھی جبکہ حالیہ دور حکومت میں پنجاب میں دانش اسکولز کی تعمیر اور آشیانہ اسکیم کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنے کاموں کا ذکر کیا ۔

شہباز کی تنقید پر بابر اعوان کا جواب

شہباز شریف کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی پر سخت تنقید کے جواب میں پی پی رہنما بابر اعوان نے اسلام آباد میں فوری طور پر ایک پریس کانفرنس بلائی جس میں انہوں نے تنقید کا جواب تنقید سے دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی تقریر، جلسہ اور ریلی ’کامیڈی شو ‘ تھا۔

انہوں نے شہباز شریف پر الزام لگایا کہ جلسے میں مسلم لیگ ن کے کارکنان کے بجائے سرکاری محکموں کے ملازمین کو زدوکوب کر کے لایاگیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ تحریری طور پر لکھ کر دینے کو تیار ہیں کہ شریف برادران ’جلد ملک سے بھاگ کر جدہ پہنچ جائیں گے‘۔

بابر اعوان نے شہباز شریف کی جانب سے صدر آصف علی زرداری کے خلاف خطاب کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایسی نازیبا زبان استعمال کی ہے جو، اُن کے بقول، ایک تانگہ پارٹی والا بھی استعمال نہیں کرتا ۔اُن کےالفاظ میں: ’شر برادران‘ نے بازاری زبان استعمال کر کے شریف سے’ شر‘ تک کا سفر مکمل کرلیا ۔

انہوں نے الزام لگایا کہ لاہور میں جلسے کیلئے زبردستی دکانیں اور ٹرانسپورٹ بند کروائی گئیں اور بارہ ہزار اہلکاروں کو سیکورٹی پر مامور کیا گیا جن میں سے چار ہزار ایلیٹ فورس کے جوان بھی شامل تھے جبکہ چھ ہزار اہلکاروں نے وردی پہن رکھی تھی اور باقی عام کپڑوں میں ملبوس تھے۔

ممکنہ محاذ آرائی سے نمٹنے کیلئے پیپلزپارٹی کے رابطے

اُدھرپیپلزپارٹی نے بھی حکومت میں موجود اتحادیوں سے رابطے تیز کر دیئے ہیں ۔ کراچی میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایم کیو ایم کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی جس میں متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی وزراء رضا ہارون ، ڈاکٹر صغیر احمد اور قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدرعباس رضوی شامل تھے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر مستقبل کے سیاسی حالات اور اتحاد سے متعلق غور و خوض کیا گیا ۔

بعدازاں، وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی ریلی میں ’سرکاری وسائل کے استعمال‘ کی ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی جائیں گی ۔

XS
SM
MD
LG